افغانستان سے قبائلیوں کی پاکستان واپسی

افغانستان کے صوبہ خوست سے چار سو پاکستانی قبائلی خاندانوں کی واپسی کے مناظر۔

قبائلی

،تصویر کا ذریعہFaridullah Zahir

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی کے چار سو متاثرہ خاندان جنھوں نے افغانستان کے صوبہ خوست میں پناہ لے رکھی تھی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
قبائلی

،تصویر کا ذریعہFaridullah Zahir

،تصویر کا کیپشنمتاثرین کی واپسی شمالی وزیرستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقے غلام خانے کے راستے سے ہو رہی ہے۔
قبائلی

،تصویر کا ذریعہFaridullah Zahir

،تصویر کا کیپشنپہنچنے والوں میں 73 خاندان ایسے ہیں جن کی رجسٹریشن غلام خان میں مکمل ہو گئی تھی اور انھیں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے قریب واقع متاثرین کے کیمپ بکا خیل پہنچایا گیا ہے۔
قبائلی

،تصویر کا ذریعہFaridullah Zahir

،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب جون 2014 میں شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں کوئی دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔
قبائلی

،تصویر کا ذریعہFaridullah Zahir

،تصویر کا کیپشنایف ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل محمد خالد کے مطابق غلام خان میں عارضی کیمپ قائم ہے جہاں پہنچے والے تمام متاثرین کو تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں خوراک اور خیمے شامل ہیں۔
قبائلی

،تصویر کا ذریعہFaridullah Zahir

،تصویر کا کیپشنافغانستان کے صوبہ خوست سے متاثرین کے ایک ترجمان مولوی خان دراز داوڑ کے مطابق 127 خاندان گزشتہ روز غلام خان میں موجود تھے جبکہ دو سو خاندان منگل کے روز پہنچے ہیں۔
قبائلی

،تصویر کا ذریعہFaridullah Zahir

،تصویر کا کیپشنمقامی انتطامیہ کی جانب سے ان متاثرین کو پیغامات بھی پہنچائے گئے تھے اور قبائلی رہنماوں کو بھی افغانستان بھیجا گیا تھا تاکہ ان افراد کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
قبائلی

،تصویر کا ذریعہFaridullah Zahir

،تصویر کا کیپشنایسی اطلاعات ہیں کہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد نے واپسی کے لیے اب تک رجسٹریشن نہیں کرائی۔