پاکستان کی معروف مساجد کے دلکش مناظر

پاکستان کے مختلف علاقوں میں جدید اور قدیم طرز تعمیر کی مساجد کو محمد اشعر نے اپنے کیمرے میں قید کیا ہے۔

باشاہی مسجد، لاہو

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ashar

،تصویر کا کیپشنشام کے دھندلکے میں بادشاہی مسجد لاہور کے صدر دروازے سے ایک منظر۔
باشاہی مسجد، لاہو

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ashar

،تصویر کا کیپشنلاہور کی شاہی مسجد کی تعمیر مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے 1673 میں کروائی تھی جس میں بیک وقت چھ ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔
سکھ چین مسجد

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ashar

،تصویر کا کیپشنیہ مسجد ترکی طرز تعمیر پر مبنی ہے اور اسے ماوی مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ یہ استنبول کی نیلی مسجد کی نقل معلوم پڑتی ہے۔
باشاہی مسجد، لاہو

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ashar

،تصویر کا کیپشنبادشاہی مسجد کا نیلگوں منظراور حوض کے پانی میں اس کا عکس مسجد کی شان کو دوبالا کر رہا ہے۔
شاہی مسجد، چنوٹ

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ashar

،تصویر کا کیپشنچنیوٹ کی شاہی مسجد کے اندرون کا ایک منظر جس میں ستون اور اس میں کی جانے والی کاریگری کو دیکھا جا سکتا ہے۔
شاہی مسجد، چنیوٹ

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ashar

،تصویر کا کیپشنشاہ جہاں کے عہد میں نواب سعداللہ خان نے چنیوٹ میں شاہی مسجد کی تعمیر کرائی۔ صدر دروازے کی تصویر میں مغل فن تعمیر کے اعلی نمونے نظر آتے ہیں۔
موتی مسجد، لاہور

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ashar

،تصویر کا کیپشنلاہور کی موتی مسجد کی تعمیر شاہ جہاں نے کروائي تھی اور یہ سفید سنگ مرمر کی تعمیر کردہ مسجد ہے۔
بحیرہ مسجد، لاہور

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ashar

،تصویر کا کیپشنلاہور کی بحیرہ مسجد قدیم اور جدید طرز تعمیر کا مرکب ہے۔ فوارے سے مسجد کی دلکشی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
مسجد چقچن

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ashar

،تصویر کا کیپشنمسجد چقچن بلتستان کے علاقے خپلو میں واقع ایک قدیم مسجد ہے جس کی بنیاد سنہ 1370 میں ایرانی مبلغ اسلام میر سید علی ہمدانی نے رکھی، بعض روایات کے مطابق یہ عمارت مسجد بننے سے پہلے بدھ مت کی خانقاہ تھی۔
چولستان کی مسجد

،تصویر کا ذریعہMuhammad Ashar

،تصویر کا کیپشنیہ مسجد بہاولپور سے تقریبا 100 کلو میٹر کے فاصلے پر چولستان کے ریگستان کے کنارے موجود ہے۔ صبح کو مسجد کا ایک منظر۔