تلور کے شکار کے بعد قطری شکاریوں کی واپسی

بلوچستان میں قطر کے شاہی خاندان کے افراد تلور کے شکار کے بعد واپس جا رہے ہیں

قطر کے شکاری
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں قطر کے شاہی خاندان کے افراد تلور کے شکار کے بعد واپس جا رہے ہیں( تصاویر، ملک مدثر)
قطر کے شکاری
،تصویر کا کیپشنہر برس 30 سے 40 ہزار سائبیریائی تلور موسمِ سرما پاکستان میں گزرنے آتے ہیں اور پھر عرب شیوخ وزارتِ خارجہ کے خصوصی اجازت ناموں کے ساتھ اپنے لاؤ لشکر سمیت بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں آتے ہیں اور باز کے ذریعے تلور کا شکار کرتے ہیں۔ تلور کے شکار میں عقابوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
قطر کے شکاری
،تصویر کا کیپشنصوبے خیبر پختونخوا حکومت نے تلور کے شکار پر پابندی عائد کر دی تھی ۔ملک میں عام طورپر اس پرندے کے شکار پر سرکاری طورپر پابندی عائد ہے لیکن جب عرب شاہی خاندان کے افراد تلور کے شکار کے لیے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں تو ان کے لیے کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔
قطر کے شکاری
،تصویر کا کیپشنرواں برس پاکستان کی سپریم کورٹ نے تلور کے شکار پر مکمل پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔جس میں وفاقی حکومت نے تلور کے شکار پر پابندی سے متعلق عدالت کے فیصلے کے خلاف نطر ثانی کی اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔ تصویر میں ملازمین شکار کیے گئے تلور کو ڈبوں میں بند کر کے ساتھ لیجانے کے لیے گاڑی میں رکھ رہے ہیں۔ اس طرح کے کئی ڈبے گاڑیوں میں لوڈ کیے گئے۔
قطر کے شکاری
،تصویر کا کیپشنقطر کے شاہی خاندان کے ساتھ بڑی تعداد میں ملازمین کے علاوہ گاڑیوں کا قافلہ ہوتا ہے
قطر کے شکاری
،تصویر کا کیپشنحکومت امیر شیخوں کے لیے سالانہ 25 سے 35 پرندوں کے شکار کے خصوصی اجازت نامے جاری کرتی ہے تاہم 2014 میں ایک سرکاری رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس کے مطابق ایک سعودی شہزادے نے اپنے 21 روزہ دورے کے دوران دو ہزار سے زائد پرندوں کا شکار کیا تھا۔
قطر کے شکاری
،تصویر کا کیپشنیہ نکتہ بھی اہم ہے کہ کچھ عرصہ سے غیر ملکی میڈیا میں بھی پاکستان میں تلور کے شکار سے متعلق رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں جس میں اس نایاب پرندے کے معدوم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔