پاک افغان باب دوستی بند، مسافر پریشان

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے متصل پاک افغان باب دوستی کی پانچ دن سے بندش کے باعث مسافروں اور تاجروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے متصل پاک افغان باب دوستی پانچ دن سے بند ہے۔( تصاویر، مطیع اللہ اچکزئی)

،تصویر کا ذریعہMatiullah Achakzai

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے متصل پاک افغان باب دوستی پانچ دن سے بند ہے۔( تصاویر، مطیع اللہ اچکزئی)
سرحد بند ہونے کی وجہ سے سرحد کے دونوں جانب سفر کرنے والے لوگوں اور تاجروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہMatiullah Achakzai

،تصویر کا کیپشنسرحد بند ہونے کی وجہ سے سرحد کے دونوں جانب سفر کرنے والے لوگوں اور تاجروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
سکیورٹی ذرائع نے باب دوستی کو بند کرنے کا ذمہ دار افغان سکیورٹی حکام کو ٹھراتے ہوئے کہا ہے کہ 18اگست بھارتی وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کے دوران افغانستان کے سیکورٹی حکام نے افغان سرحدی علاقے سپین بولدک کے لوگوں کو کسی جواز کے بغیر اشتعال دلایا تھا

،تصویر کا ذریعہMatiullah Achakzai

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی ذرائع نے باب دوستی کو بند کرنے کا ذمہ دار افغان سکیورٹی حکام کو ٹھراتے ہوئے کہا ہے کہ 18اگست بھارتی وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کے دوران افغانستان کے سیکورٹی حکام نے افغان سرحدی علاقے سپین بولدک کے لوگوں کو کسی جواز کے بغیر اشتعال دلایا تھا
ذرائع کے بقول اس پر وہاں کے لوگوں نے نہ صرف پاکستان کی جانب پھتراؤ کیا بلکہ قابل اعتراض جملوں کے اظہار کے علاوہ پاکستانی پرچم بھی نذر آتش کیا

،تصویر کا ذریعہMatiullah Achakzai

،تصویر کا کیپشنذرائع کے بقول اس پر وہاں کے لوگوں نے نہ صرف پاکستان کی جانب پھتراؤ کیا بلکہ قابل اعتراض جملوں کے اظہار کے علاوہ پاکستانی پرچم بھی نذر آتش کیا
باب دوستی سے روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں تاجروں کی آمد و رفت کے علاوہ عام لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہMatiullah Achakzai

،تصویر کا کیپشنباب دوستی سے روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں تاجروں کی آمد و رفت کے علاوہ عام لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے
سرحدی راہداری کو کھولنے کے سلسلے میں دونوں ممالک کے سرحدی حکام کے درمیان جو مذاکرات ہوئے وہ تاحال کامیاب نہیں ہو سکے

،تصویر کا ذریعہMatiullah Achakzai

،تصویر کا کیپشنسرحدی راہداری کو کھولنے کے سلسلے میں دونوں ممالک کے سرحدی حکام کے درمیان جو مذاکرات ہوئے وہ تاحال کامیاب نہیں ہو سکے