چترال میں سیلاب کی تباہ کاریاں

رواں ماہ جولائی میں چترال کے علاقے ارسون میں آنے والے سیلاب کے بعد کی تصاویر۔

دو جولائی کو چترال کے علاقے ارسون میں آنے والے سیلاب نے سرسبز وادی کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے
،تصویر کا کیپشندو جولائی کو چترال کے علاقے ارسون میں آنے والے سیلاب نے سرسبز وادی کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے
اس دیو قامت پتھر سے سیلاب کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس پتھر کو سیلابی ریلہ اپنے ساتھ بہا کر لایا
،تصویر کا کیپشناس دیو قامت پتھر سے سیلاب کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس پتھر کو سیلابی ریلہ اپنے ساتھ بہا کر لایا
سیلاب کی وجہ سے پانی کی سپلائی لائن کٹ جانے کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کے حصول میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں
،تصویر کا کیپشنسیلاب کی وجہ سے پانی کی سپلائی لائن کٹ جانے کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کے حصول میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں
دشوار گزار پہاڑیوں سے بچیاں پینے کا پانی لے کر واپس جا رہی ہیں
،تصویر کا کیپشندشوار گزار پہاڑیوں سے بچیاں پینے کا پانی لے کر واپس جا رہی ہیں
اس مقام پر دو منزلہ مکان تھا جسے سیلاب ساتھ بہا لےگیا۔ یہاں موجود اس مکان میں رہنے والے پانچ افراد سمیت چار بچے ہلاک ہوئے
،تصویر کا کیپشناس مقام پر دو منزلہ مکان تھا جسے سیلاب ساتھ بہا لےگیا۔ یہاں موجود اس مکان میں رہنے والے پانچ افراد سمیت چار بچے ہلاک ہوئے
رواں ماہ چترال کے علاقے ارسون میں دو گھنٹے تک جاری رہنے والی تیز بارش کے بعد آنے والے سیلابی ریلے سے ایک مسجد اور سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ سمیت متعدد مکانات بہہ گئے تھے
،تصویر کا کیپشنرواں ماہ چترال کے علاقے ارسون میں دو گھنٹے تک جاری رہنے والی تیز بارش کے بعد آنے والے سیلابی ریلے سے ایک مسجد اور سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ سمیت متعدد مکانات بہہ گئے تھے
سیلاب میں سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکار بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے
،تصویر کا کیپشنسیلاب میں سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکار بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے
اس مقام پر ایک مسجد ہوا کرتی تھی لیکن مسجد کی عمارت پانی کے تیز بہاؤ کی نذر ہو چکی ہے۔ اس مسجد میں نماز تراویح کے لیے موجود کئی نمازی بھی ہلاک ہوئے
(تحریر و تصاویر بلال احمد بی بی سی پشاور)
،تصویر کا کیپشناس مقام پر ایک مسجد ہوا کرتی تھی لیکن مسجد کی عمارت پانی کے تیز بہاؤ کی نذر ہو چکی ہے۔ اس مسجد میں نماز تراویح کے لیے موجود کئی نمازی بھی ہلاک ہوئے (تحریر و تصاویر بلال احمد بی بی سی پشاور)