ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کا کوشش ناکام

ترکی میں فوج کے ایک گروہ کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کی ناکام کوشش: تصاویر میں

ترکی کے صدر طیب اردوغان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت نے ملک کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنترکی کے صدر طیب اردوغان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت نے ملک کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔
جمعے کی شب شروع ہونے والی بغاوت کا حصہ بننے والے 1500 فوجیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجمعے کی شب شروع ہونے والی بغاوت کا حصہ بننے والے 1500 فوجیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے دوران اب تک کم از کم 90 افراد ہلاک اور 1100 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے دوران اب تک کم از کم 90 افراد ہلاک اور 1100 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا آغاز جمعے کی شام ساڑھے سات بجے ہوا جب استنبول کے مرکزی پلوں پر ٹینک اور فوجی گاڑیاں کھڑے کر دی گئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا آغاز جمعے کی شام ساڑھے سات بجے ہوا جب استنبول کے مرکزی پلوں پر ٹینک اور فوجی گاڑیاں کھڑے کر دی گئیں۔
صدر اردوغان نے آئی فون کی فیس ٹائم سروس کی مدد سے ترک ٹی وی پر بیان دیا جس میں انھوں نے عوام سے بغاوت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنصدر اردوغان نے آئی فون کی فیس ٹائم سروس کی مدد سے ترک ٹی وی پر بیان دیا جس میں انھوں نے عوام سے بغاوت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔
اس اعلان کے بعد عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور باغی فوجیوں کے خلاف آواز بلند کر دی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس اعلان کے بعد عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور باغی فوجیوں کے خلاف آواز بلند کر دی۔
ترک فوج کے 26 کرنل اور پانچ جنرل برطرف کر دیے گئے ہیں جبکہ عوام نے انقرہ اور استنبول میں فوجی گاڑیوں کو گھیرے میں لے لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنترک فوج کے 26 کرنل اور پانچ جنرل برطرف کر دیے گئے ہیں جبکہ عوام نے انقرہ اور استنبول میں فوجی گاڑیوں کو گھیرے میں لے لیا۔
صدر اردوغان نے اس فوجی اقدام کو ’ملک سے غداری‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فوج میں صفائی ہونی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنصدر اردوغان نے اس فوجی اقدام کو ’ملک سے غداری‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فوج میں صفائی ہونی چاہیے۔