بغداد میں ہلاکتوں کے بعد عراق سوگوار

عراق کے دارالحکومت بغداد میں عید سے چند دن قبل دھماکے میں 160 سے زیادہ افراد کی ہلاکت پر ملک میں تین دن کا سوگ۔

عراقی دارالحکومت بغداد میں سنیچر کی شب ہونے والے دھماکے میں مرنے والوں کی تدفین کا سلسلہ پیر کو بھی جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعراقی دارالحکومت بغداد میں سنیچر کی شب ہونے والے دھماکے میں مرنے والوں کی تدفین کا سلسلہ پیر کو بھی جاری ہے۔
امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں خاندان کے خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں اور بہت سی لاشیں جلنے کی وجہ سے ناقابلِ شناخت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنامدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں خاندان کے خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں اور بہت سی لاشیں جلنے کی وجہ سے ناقابلِ شناخت ہیں۔
بغداد کے شہریوں نے جائے حادثہ پر شمعیں روشن کر کے ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبغداد کے شہریوں نے جائے حادثہ پر شمعیں روشن کر کے ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے کرادہ میں ہونے والے دھماکے میں 160 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے کرادہ میں ہونے والے دھماکے میں 160 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
دھماکے میں 220 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے جن کا علاج جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشندھماکے میں 220 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے جن کا علاج جاری ہے۔
عراقی حکومت نے بم دھماکوں کے بعد بغداد کے داخلی راستوں پر سکیورٹی کے انتظامات میں بہتری لانے کا وعدہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعراقی حکومت نے بم دھماکوں کے بعد بغداد کے داخلی راستوں پر سکیورٹی کے انتظامات میں بہتری لانے کا وعدہ کیا ہے۔
عراق میں اس قسم کے کارروائیاں روکنے میں ناکامی پر عوامی سطح پر برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعراق میں اس قسم کے کارروائیاں روکنے میں ناکامی پر عوامی سطح پر برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔
اتوار کو رات گئے تک امدادی کارکن کرادہ میں بم دھماکے کے مقام سے ملبہ صاف کرتے رہے اور جلی ہوئی عمارت کی تلاشی کا عمل بھی جاری تھا۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشناتوار کو رات گئے تک امدادی کارکن کرادہ میں بم دھماکے کے مقام سے ملبہ صاف کرتے رہے اور جلی ہوئی عمارت کی تلاشی کا عمل بھی جاری تھا۔