کشمیر کی بند ہوتی بندوق فیکٹریاں

ایک وقت تھا جب انڈیا کا زیر انتظام کشمیر شہریوں کے لیے بندوقیں بنانے کی فیکڑیوں کا گڑھ ہوا کرتا تھا لیکن اب مسلم اکثریتی اس وادی میں بندوق رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک وقت تھا جب انڈیا کا زیر انتظام کشمیر شہریوں کے لیے بندوقیں بنانے کی فیکڑیوں کا گڑھ ہوا کرتا تھا لیکن اب مسلم اکثریتی اس وادی میں بندوق رکھنا مشکل ہو گیا ہے اس لیے یہ فیکٹریاں اب زوال کا شکار ہیں۔
(تحریر: گیتا پانڈے، سرینگر)

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

،تصویر کا کیپشنایک وقت تھا جب انڈیا کا زیر انتظام کشمیر شہریوں کے لیے بندوقیں بنانے کی فیکڑیوں کا گڑھ ہوا کرتا تھا لیکن اب مسلم اکثریتی اس وادی میں بندوق رکھنا مشکل ہو گیا ہے اس لیے یہ فیکٹریاں اب زوال کا شکار ہیں۔ (تحریر: گیتا پانڈے، سرینگر)
آج دھول میں اٹی مشینوں والی اس زارو فیکٹری میں سنہ 2012 تک سالانہ 540 سنگل بیرل اور ڈبل بیرل بندوقیں تیار ہوتی تھیں اور فیکٹری کے مالک نذیر احمد زارو کے مطابق سب کی سب فروخت ہو جایا کرتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

،تصویر کا کیپشنآج دھول میں اٹی مشینوں والی اس زارو فیکٹری میں سنہ 2012 تک سالانہ 540 سنگل بیرل اور ڈبل بیرل بندوقیں تیار ہوتی تھیں اور فیکٹری کے مالک نذیر احمد زارو کے مطابق سب کی سب فروخت ہو جایا کرتی تھیں۔
بندوقوں کی قیمت اِن کی اخروٹ کی لکڑی سے بنے لمبے دستوں کی وجہ سے بڑھ جاتی تھی جن پر چنار کے پتوں کی کندہ کاری کی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAbid bhat

،تصویر کا کیپشنبندوقوں کی قیمت اِن کی اخروٹ کی لکڑی سے بنے لمبے دستوں کی وجہ سے بڑھ جاتی تھی جن پر چنار کے پتوں کی کندہ کاری کی جاتی ہے۔
ان کے خریداروں میں نہ صرف واری بلکہ دوسری انڈین ریاستوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔ لوگ یہ بندوقیں شکار کھیلنے یا ذاتی دفاع کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

،تصویر کا کیپشنان کے خریداروں میں نہ صرف واری بلکہ دوسری انڈین ریاستوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔ لوگ یہ بندوقیں شکار کھیلنے یا ذاتی دفاع کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
نذیر زارو کے بقول ان کا خاندان اس پیشے میں مغل دور سے ہے اور ان کے داد 1947 میں پاکستان سے کشمیر آئے تھے اور یہ فیکٹری 1953 میں قائم کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

،تصویر کا کیپشننذیر زارو کے بقول ان کا خاندان اس پیشے میں مغل دور سے ہے اور ان کے داد 1947 میں پاکستان سے کشمیر آئے تھے اور یہ فیکٹری 1953 میں قائم کی گئی تھی۔
عروج کے دنوں میں اس فیکٹری میں درجنوں لوگ کام کرتے تھے جو دور دارز کے دیہاتوں سے کام کرنے آتے۔

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

،تصویر کا کیپشنعروج کے دنوں میں اس فیکٹری میں درجنوں لوگ کام کرتے تھے جو دور دارز کے دیہاتوں سے کام کرنے آتے۔
سُبحانا اینڈ سنز نامی فیکٹری کے مالک ظہور احمد آہانگڑ کا کہنا ہے کہ جموں میں 30 فیکڑیاں ہے اور اب ان کے کوٹے میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے انڈیا سے آنے والے سارے گاہک اب جموں سے بندوقیں خریدتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

،تصویر کا کیپشنسُبحانا اینڈ سنز نامی فیکٹری کے مالک ظہور احمد آہانگڑ کا کہنا ہے کہ جموں میں 30 فیکڑیاں ہے اور اب ان کے کوٹے میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے انڈیا سے آنے والے سارے گاہک اب جموں سے بندوقیں خریدتے ہیں۔
سنہ 1981 اور 1991 کے دوران کشمیر میں ہونے والی پت تشدد مزاحمت کے باعث بندوق سازی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ جس کے بعد سنہ 1992 میں پابندی تو ختم ہو گئی لیکن فیکٹریوں کے کوٹے میں کمی کر دی گئی۔ سبحانا کا کوٹہ 700 سے کم کر کے 300 کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

،تصویر کا کیپشنسنہ 1981 اور 1991 کے دوران کشمیر میں ہونے والی پت تشدد مزاحمت کے باعث بندوق سازی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ جس کے بعد سنہ 1992 میں پابندی تو ختم ہو گئی لیکن فیکٹریوں کے کوٹے میں کمی کر دی گئی۔ سبحانا کا کوٹہ 700 سے کم کر کے 300 کر دیا گیا۔
نذیر زارو کے بیٹے برہان زارو کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنہ 2013 میں ریاست کی وزراتِ داخلہ سے درخواست کی تھی کے اس صنعت کو بچانے کے لیے اقدام کیے جائے لیکن حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود کچھ نہیں کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

،تصویر کا کیپشننذیر زارو کے بیٹے برہان زارو کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنہ 2013 میں ریاست کی وزراتِ داخلہ سے درخواست کی تھی کے اس صنعت کو بچانے کے لیے اقدام کیے جائے لیکن حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود کچھ نہیں کیا گیا۔