مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی کم عمر ماؤں کی چند تصاویر۔
،تصویر کا کیپشندنیا میں ہر سال 15 سال سے کم عمر تقریباً 20 لاکھ لڑکیاں ماں بنتی ہیں۔
کم عمری میں ماں بننا صحت کے لیے نقصان دہ تو ہے ہی اس سے ان لڑکیوں کے مستقبل کے روزگار پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں۔
فوٹو گرافر اور فلم میکر پیٹر ٹین ہوپن نے ایسی ہی چند نو عمر ماؤں سے کوپن ہیگن میں منعقدہ ’ویمن ڈیلیور‘ کانفرنس سے آغاز سے قبل ملاقات کی جس میں خواتین اور لڑکیوں کی صحت، حقوق اور اچھی زندگی جیسے موضوعات زیربحث آئیں گے۔ اس تصویر میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنی والی 14 سالہ ’کیا‘ کو اپنے بیٹے اور شوہر کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن15 سالہ ’اینا‘ اور اپنی کی چار ماہ کی بیٹی، والدین اور دو بہنوں کے ہمراہ کولمبیا کے سب سے بڑے شہر کے شورش زدہ علاقے میں رہتی ہیں۔وپ آٹھویں جماعت میں تھیں جب وہ اپنے بوائے فرینڈ سے حاملہ ہوگئیں، جس نے انھیں چھوڑ دیا۔ وہ بتاتی ہیں: ’جب میں آٹھ ماہ کی حاملہ تھی تو میرا بلڈ بریشر بہت بڑھ گیا تھا۔ جب میں کلینک گئی تو انھوں نے مجھے فوراً زچہ وارڈ میں بھیج دیا۔ میں ماں بننا نہیں چاہتی تھی، لیکن جب کیرن مجھے دیکھ کر مسکراتی ہے تو یہ بہت خوبصورت لگتا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنآیسا کا تعلق برکینا فاسو سے ہے۔ ان کی عمر 15 برس ہے اور وہ ایک 13 ماہ کی بچی کی والدہ ہیں جو اپنی والدہ اور دو بہنوں کے ہمراہ رہتی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے استاد نے جنسی زیادتی کی جس کے نتیجے میں وہ حملہ ہو گئیں۔ استاد کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا گیا۔ ’میں 14 سال کی تھی جب میں حاملہ ہوئی۔ اپنے پرائمری کے امتحانات کے بعد میں نے اپنے استاد کو نتیجہ معلوم کرنے کے لیے فون کیا۔ جب سے اس کو میرا نمبر ملا وہ بار بار مجھے ملنے کا کہتا تھا۔‘
’میں نے کہا کہ میں نہیں ملوں گی۔ پھر ایک دن اس نے مجھے دھمکی دی کہ میں اگر اس سے نہ ملی تو میرے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ میں ڈر گئی اور اپنا نتیجہ لینے گئی تو اس نے مجھے ریپ کیا۔‘
،تصویر کا کیپشنایلیان کا تعلق ہیٹی سے ہے اور 2010 میں ہیٹی میں زلزلے آنے کے بعد سے وہ کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ایلیان اپنے بوائے فرینڈ سے حاملہ ہوئیں اور ان کو سکول چھوڑنا پڑا۔ حمل کے ساتویں مہینے انھوں نے بیٹے کو جنم دیا لیکن وہ جلد ہی فوت ہو گیا۔ ’حمل کے ساتویں مہینے مجھے پیٹ میں درد محسوس ہوا۔ ایک ہفتے بعد میں ہسپتال گئی۔ جس ہسپتال میں بھی جاؤں وہ میرا علاج کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیں کہ تمہاری حالت بہت خراب ہے اور بچہ ہونے کے دوران یا تو بچہ یا پھر میں مر سکتی ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشن15 سالہ امیرا اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ اردن میں مہاجرین کے لیے بنائے گئے ایک کیمپ میں رہتی ہیں۔ شام سے تعلق رکھنے والی امیرا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ملک میں جنگ کے باعث پڑھائی چھوڑی۔ امیرا کا کہنا ہے کہ ان کی شادی 13 برس کی عمر میں ہوگئی تھی۔
’بچے کو سنبھالنا بہت مشکل ہے اور خصوصاً جب آپ خود بچی ہوں۔ جیسے کہ مجھے نہیں معلوم کہ آیا مجھے ہر وقت بچے کو گود میں اٹھانا چاہیے یا نہیں۔ اور مجھے اپنے شوہر کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ میرے پاس اپنے لیے کوئی وقت نہیں ہے۔ پہلے بچوں کی دیکھ بھال سے فرصت نہیں ملتی اور پھر گھر کے کام۔ نوزائیدہ بچے بہت روتے ہیں اور کبھی مجھے سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ رو کیوں رہا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشن14 سالہ مولینگا ایک بیٹی کی ماں ہیں اور زیمبیا کے دور افتادہ گاؤں میں اپنے والدین، سوتیلی ماں اور دس بہن بھائیوں کے ہمراہ رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں اور پھر ان کی والدہ کو معلوم چل گیا کہ وہ (مولینگا) حاملہ ہیں۔ ’ماں بننے کے بعد میرے پاس کھیل کود کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ مجھے اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔ ماں بننے سے قبل میں کھیلتی تھی اور جہاں جانا چاہتی تھی جاتی تھی۔ مجھے فٹبال بہت پسند ہے۔‘
،تصویر کا کیپشن15 سالہ پوکو کا تعلق برکینا فاسو سے ہے اور وہ تین سالہ بیٹے، والدین، دادی اور آنٹی کے ہمراہ رہتی ہیں۔ وہ بچے کی پیدائش کے دوران مرتے مرتے بچیں تھیں۔
’میں 12 سال کی تھی جب حاملہ ہوئی۔ مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ میں جس لڑکے سے ملتی تھی اس نے ایک دن مجھے اس کے مکان پر آنے کا کہنا۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیوں بلا رہا ہے۔ اس نے مجھے کہا کہ رات کو ہم اکٹھے سوئیں گے۔ میں اس کے مکان پر گئی اور اس نے میرے ساتھ سیکس کیا۔ یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔‘
،تصویر کا کیپشنزیمبیا سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ تھانڈیوی اپنے نو ماہ کے بیٹے اور شوہر کے ساتھ ایک پسماندہ علاقے میں رہتی ہیں۔
تھانڈیوی کو بھی حاملہ ہونے کی وجہ سے سکول کو خیر باد کہنا پڑا تھا اور بچے کے باپ سے شادی کرنی پڑی۔ ’مجھے اب بھی احساس ہوتا ہے کہ میں ماں بننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ میں اس عمر میں حاملہ ہونے کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ میں چھٹی کلاس میں پڑھتی تھی جب حاملہ ہوئی۔ میں شیف بننا چاہتی تھی اور شہر میں کام کرنا چاہتی تھی۔ پھر میری ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی جو نویں کلاس میں تھا۔ ہم صرف پانچ بار ملے۔ میں کافی خوفزدہ تھی جب میں حاملہ ہوئی۔ جب میرے والدین کو معلوم چلا تو وہ مجھے اس لڑکے کے گھر چھوڑ گئے۔ میں ایسا نہیں چاہتی تھی لیکن انھوں نے مجھے اس لڑکے سے شادی کرنے پر مجبور کیا۔
’دی وومن ڈیلیور کانفرنس‘ 16 سے 19 مئی تک کوپن ہیگن میں جاری رہے گی۔ تمام تصاویر: پیٹر ٹین ہوپن/ پلین انٹرنیشنل/ یو این ایف پی اے