صحارا ریگستان کا خطرناک سفر

یورپ کو مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ علاقوں سے آنے والے تارکين وطن کے علاوہ افریقي ممالک سے بحيرہ روم کے ذريعہ آنے والوں کا بھي مسئلہ درپيش ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈيوڈ کيمرون نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحیرہ روم ميں اپني نيوي میں اضافہ کرے اور تارکین وطن کو واپس لیبیا بھیجے۔

شمالی افریقہ سےاس سال اب تک تیرہ ہزار سے زیادہ تارکین وطن بحیرہ روم کے ذريعہ اٹلی پہنچے ہيں۔ ليکن اس خطرناک سمندری سفر کو طے کرنے میں سنہ دو ہزار چودہ سے اب تک تقریباً چھ ہزار سے زیادہ افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ تارکین وطن کے بین الاقوامی ادارے ’آئی او ایم‘ کے اندازوں کے مطابق گذشتہ سال بحيرہ روم تک پہنچنے کے ليے تقريباً ايک لاکھ افراد نے صحارا ريگستان کا خطرناک سفر طے کيا۔ افریقہ سے یورپ تک کا یہ سفر نائجر میں اگادیز کے مقام سے شروع ہوتا ہے۔

اگادیز سے ہمارے نامہ نگار تھامس فیسی کی رپورٹ حسین عسکری کي زباني