جنھوں نے ٹیکنالوجی کو اپنا ہتھیار بنایا

عالمی یومِ خواتین پر دنیا کے 11 ممالک میں ٹیکنالوجی کو اپنے کریئر میں آگے بڑھنے کے لیے استعمال کرنے والی خواتین پر ایک نظر

نگہت داد: پاکستان
ڈیجیٹیل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی اور 2015 میں ٹائم میگزین کے آئندہ نسل کے رہنماؤں میں سے ایک۔
’
’مستقل مزاجی دکھائیں اور قائم رہیں۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں بہت سے مواقع ہیں لیکن اگر آپ ایک خاتون ہیں تو آپ کئی بار جھنجھلاہٹ کا شکار بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ ایسا شعبہ ہے جس میں آغاز سے ہی خواتین سرگرم رہی ہیں جیسے کہ اڈا لولیس یا گریس ہوپر۔‘
،تصویر کا کیپشننگہت داد: پاکستان ڈیجیٹیل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی اور 2015 میں ٹائم میگزین کے آئندہ نسل کے رہنماؤں میں سے ایک۔ ’ ’مستقل مزاجی دکھائیں اور قائم رہیں۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں بہت سے مواقع ہیں لیکن اگر آپ ایک خاتون ہیں تو آپ کئی بار جھنجھلاہٹ کا شکار بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ ایسا شعبہ ہے جس میں آغاز سے ہی خواتین سرگرم رہی ہیں جیسے کہ اڈا لولیس یا گریس ہوپر۔‘
این کیجر ریچرٹ: جرمنی
’میں دو سال سے امن کے متعلق مطالعہ کر رہی ہوں خصوصی طور پر اس میں جدت اور ٹیکنالوجی کو دیکھ رہی ہوں۔ تو کس طرح آپ لوگوں کے درمیان بہتر تعاون کی صورتحال پیدا کرنے کے لیے آپ ٹیکنالوجی کی طاقت کو استعمال کرسکتے ہیں اور آخرکار مسائل کے ایسے حل کے ساتھ آئیں جنھیں بہتر معاشرے کی تخلیق کے لیے لاگو کیا جاسکتا ہو۔‘
،تصویر کا کیپشناین کیجر ریچرٹ: جرمنی ’میں دو سال سے امن کے متعلق مطالعہ کر رہی ہوں خصوصی طور پر اس میں جدت اور ٹیکنالوجی کو دیکھ رہی ہوں۔ تو کس طرح آپ لوگوں کے درمیان بہتر تعاون کی صورتحال پیدا کرنے کے لیے آپ ٹیکنالوجی کی طاقت کو استعمال کرسکتے ہیں اور آخرکار مسائل کے ایسے حل کے ساتھ آئیں جنھیں بہتر معاشرے کی تخلیق کے لیے لاگو کیا جاسکتا ہو۔‘
عفت گِل: نیدرلینڈز
سماجی اور انسانی حقوق کی کارکن جنھوں نے ایمسٹرڈیم میں خواتین بااختیار بنانے کے لیے چُنری چوپال نامی ایک تنظیم اور پاکستان کے دیہی علاقوں میں خواتین کے منصوبے کے لیے ایوارڈ یافتہ کمیونٹی سینٹر کی بنیاد رکھی تھی۔
’میں نے پاکستان میں جبری شادی سے فرار اختیار کیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کیوں کہ میں اقتصادی طور پر بااختیار تھی۔ تو یہی وہ بات ہے میں جس کے لیے میں کام کررہی ہوں۔ یہ خواتین کے لیے بہت ضروری ہے بالخصوص اُن کے لیے جو پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں تاکہ اُنھیں اقتصادی طور پر بااختیار بنایا جائے۔ اور میرا خیال ہے کہ خواتین ایسا کرنے کے قابل بن سکیں اس کے لیے ٹیکنالوجی اُنھیں شاندار مواقع فراہم کرتی ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنعفت گِل: نیدرلینڈز سماجی اور انسانی حقوق کی کارکن جنھوں نے ایمسٹرڈیم میں خواتین بااختیار بنانے کے لیے چُنری چوپال نامی ایک تنظیم اور پاکستان کے دیہی علاقوں میں خواتین کے منصوبے کے لیے ایوارڈ یافتہ کمیونٹی سینٹر کی بنیاد رکھی تھی۔ ’میں نے پاکستان میں جبری شادی سے فرار اختیار کیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کیوں کہ میں اقتصادی طور پر بااختیار تھی۔ تو یہی وہ بات ہے میں جس کے لیے میں کام کررہی ہوں۔ یہ خواتین کے لیے بہت ضروری ہے بالخصوص اُن کے لیے جو پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں تاکہ اُنھیں اقتصادی طور پر بااختیار بنایا جائے۔ اور میرا خیال ہے کہ خواتین ایسا کرنے کے قابل بن سکیں اس کے لیے ٹیکنالوجی اُنھیں شاندار مواقع فراہم کرتی ہے۔‘
لِنڈا کوباسنگا- یوگنڈا
اے ایف چیکس (کمپیوٹر سائنس میں افریقی خواتین کا ایک نیٹ ورک) کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کے بعد انھوں نے یوگنڈا میں ڈیجیٹل ڈیزائن کے طریقوں کے حوالے سے تجربات کیے اور اپنے کام کو ایپلی کیشنز کی ترقی میں منتقل کرنا چاہتی ہیں۔
’میں ویب سائٹ یا کمپیوٹر کے متعلق چیزوں میں دلچسپی رکھتی تھی۔لیکن پھر میرے سکول کی لڑکیوں کو آئی سی ٹی ڈے پر مدعو کیا گیا اور اے ایف جیکس یوگنڈا کی اُن خواتین نے ہمیں اپنے شعبوں کے متعلق بتایا کہ کیسے وہ ویب ڈیویلیپرز اور انجینیئرز بنیں۔ انھوں نے بتایا کہ کوئی ایسی موبائل ایپلی کیشن بناسکتا ہے جو دنیا تبدیل کرسکتی ہے اور ممکن ہے کہ کسی دن میں نیند سے جاگوں اور ایسا ہی کوئی کام کر رہی ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشنلِنڈا کوباسنگا- یوگنڈا اے ایف چیکس (کمپیوٹر سائنس میں افریقی خواتین کا ایک نیٹ ورک) کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کے بعد انھوں نے یوگنڈا میں ڈیجیٹل ڈیزائن کے طریقوں کے حوالے سے تجربات کیے اور اپنے کام کو ایپلی کیشنز کی ترقی میں منتقل کرنا چاہتی ہیں۔ ’میں ویب سائٹ یا کمپیوٹر کے متعلق چیزوں میں دلچسپی رکھتی تھی۔لیکن پھر میرے سکول کی لڑکیوں کو آئی سی ٹی ڈے پر مدعو کیا گیا اور اے ایف جیکس یوگنڈا کی اُن خواتین نے ہمیں اپنے شعبوں کے متعلق بتایا کہ کیسے وہ ویب ڈیویلیپرز اور انجینیئرز بنیں۔ انھوں نے بتایا کہ کوئی ایسی موبائل ایپلی کیشن بناسکتا ہے جو دنیا تبدیل کرسکتی ہے اور ممکن ہے کہ کسی دن میں نیند سے جاگوں اور ایسا ہی کوئی کام کر رہی ہوں۔‘
لِنڈا لیوکاس: فن لینڈ
ایک کمپیوٹر پروگرامر، بچوں کی تحریروں کی لکھاری اور پروگرامنگ انسٹرکٹر۔
’کمپیوٹنگ، ایک صنعت کے طور پر ایک بالکل نیا شعبہ ہے جس کی تعمیر و ترقی کا کام اب بھی جاری ہے تاکہ اسے باقی دنیا کو سمجھایا جا سکے اور اس سے آگاہ کیا جا سکے۔ میرا خیال ہے کہ سب سے زیادہ جس چیز کا میں اظہار چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ کوڈنگ کیسے ایک ہتھیار، موسیقی، نقاشی یا الفاظ کی طرح تخلیقی ہوسکتی ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنلِنڈا لیوکاس: فن لینڈ ایک کمپیوٹر پروگرامر، بچوں کی تحریروں کی لکھاری اور پروگرامنگ انسٹرکٹر۔ ’کمپیوٹنگ، ایک صنعت کے طور پر ایک بالکل نیا شعبہ ہے جس کی تعمیر و ترقی کا کام اب بھی جاری ہے تاکہ اسے باقی دنیا کو سمجھایا جا سکے اور اس سے آگاہ کیا جا سکے۔ میرا خیال ہے کہ سب سے زیادہ جس چیز کا میں اظہار چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ کوڈنگ کیسے ایک ہتھیار، موسیقی، نقاشی یا الفاظ کی طرح تخلیقی ہوسکتی ہے۔‘
میریل گارسیا ایم: میکسیکو
میکسیکو میں آئی سی ٹی میں مشیر جو مختلف گروپوں جیسے کہ یونیسیف کے ساتھ نوجوانوں کے حوالے سے منصوبوں میں کام کر رہی ہیں۔
’میں دس سال کی تھی جب میرے گھر میں کمپیوٹر آیا اور بنیادی طور پر اُس دن سے میں نے ایک دن میں کئی گھنٹے انٹرنیٹ کا استعمال کرنا شروع کیا۔ یہ سنہ 1990 کی دہائی کی بات ہے کہ اگر آپ آن لائن بہت زیادہ وقت صرف کررہے ہیں تو والدین کو اس بات کی بالکل پرواہ نہیں ہوتی تھی کیوں کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ دراصل ہے کیا۔‘
،تصویر کا کیپشنمیریل گارسیا ایم: میکسیکو میکسیکو میں آئی سی ٹی میں مشیر جو مختلف گروپوں جیسے کہ یونیسیف کے ساتھ نوجوانوں کے حوالے سے منصوبوں میں کام کر رہی ہیں۔ ’میں دس سال کی تھی جب میرے گھر میں کمپیوٹر آیا اور بنیادی طور پر اُس دن سے میں نے ایک دن میں کئی گھنٹے انٹرنیٹ کا استعمال کرنا شروع کیا۔ یہ سنہ 1990 کی دہائی کی بات ہے کہ اگر آپ آن لائن بہت زیادہ وقت صرف کررہے ہیں تو والدین کو اس بات کی بالکل پرواہ نہیں ہوتی تھی کیوں کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ دراصل ہے کیا۔‘
ڈاکٹر فریڈہ ایبٹن: برطانیہ
لندن میں رہائش پذیر کینیڈیئن موسیقار اور فنکار۔
’میں سکول صرف ریاضی اور کمپیوٹر کی تعلیم کے لیے گئی تھی لیکن اس کے باوجود میں ایک فنکار بھی تھی۔ جب میں نے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی تو اچانک میں ایسے طریقوں کے متعلق سوچنے لگی کہ کیسے موسیقی پر اِن کا اطلاق کر سکتی ہوں۔ پروگرامنگ میرے لیے ایک پوشیدہ قوت کی مانند ہے کہ جس کی مدد سے میں اپنا کام تیزی سے مکمل کر سکتی ہوں اور اس کا اطلاق میں ہر طریقے سے اپنے فن پر کر سکتی ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر فریڈہ ایبٹن: برطانیہ لندن میں رہائش پذیر کینیڈیئن موسیقار اور فنکار۔ ’میں سکول صرف ریاضی اور کمپیوٹر کی تعلیم کے لیے گئی تھی لیکن اس کے باوجود میں ایک فنکار بھی تھی۔ جب میں نے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی تو اچانک میں ایسے طریقوں کے متعلق سوچنے لگی کہ کیسے موسیقی پر اِن کا اطلاق کر سکتی ہوں۔ پروگرامنگ میرے لیے ایک پوشیدہ قوت کی مانند ہے کہ جس کی مدد سے میں اپنا کام تیزی سے مکمل کر سکتی ہوں اور اس کا اطلاق میں ہر طریقے سے اپنے فن پر کر سکتی ہوں۔‘
ایلیسا کوپر- امریکہ
امریکی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی سسکو سسٹمز میں کولیبریشن ٹیکنالوجی گروپ میں انجینیئر۔
’میری سب سے اہم ہدایت یہ ہوگی کہ اپنی ذاتی دریافتیں کریں۔ یہ فرض نہ کریں کہ آپ کو حاصل مواقع صرف وہ ہیں جو صرف اچھے کیریر کے حوالے سے بنائے گئے کتابچے پر درج ہیں۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس چیز پر توجہ مرکوز کریں جو آپ کو پسند ہے، جس میں آپ کو دلچسپی ہو، جو آپ کو نمایاں کرسکیں، اور یہ سوچیں کہ آپ کی طے شدہ مہارت اِن تمام دلچسپیوں کے ساتھ مل کر کام کرسکتی ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنایلیسا کوپر- امریکہ امریکی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی سسکو سسٹمز میں کولیبریشن ٹیکنالوجی گروپ میں انجینیئر۔ ’میری سب سے اہم ہدایت یہ ہوگی کہ اپنی ذاتی دریافتیں کریں۔ یہ فرض نہ کریں کہ آپ کو حاصل مواقع صرف وہ ہیں جو صرف اچھے کیریر کے حوالے سے بنائے گئے کتابچے پر درج ہیں۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس چیز پر توجہ مرکوز کریں جو آپ کو پسند ہے، جس میں آپ کو دلچسپی ہو، جو آپ کو نمایاں کرسکیں، اور یہ سوچیں کہ آپ کی طے شدہ مہارت اِن تمام دلچسپیوں کے ساتھ مل کر کام کرسکتی ہے۔‘
ڈاکٹر کنچنا کنچناست: تھائی لینڈ
تھائی لینڈ میں انٹرنیٹ متعارف کروانے کی ذمہ دار خاتون۔
’مجھے اپنے آبائی علاقے کو خیرباد کہہ کر دارالحکومت کی جانب جانا پڑا اور پھر آخرِکار میں تعلیم کے سلسلے میں دوسرے ملک منتقل ہوگئی۔ اس لیے وہ لمحات جب میں نے اپنے شاگردوں کو اُن کے وسائل دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ بانٹتے دیکھا تو میں بہت خوش تھی اور میں نے سوچا یہ تعلیم کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ میرے شاگردوں کو اتنے دُور سفر کر کے نہیں جانا پڑے گا اور وہ، وہ سب کام کر سکتے ہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت میں نے یہ سوچا کہ ’دنیا تبدیل ہونے والی ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر کنچنا کنچناست: تھائی لینڈ تھائی لینڈ میں انٹرنیٹ متعارف کروانے کی ذمہ دار خاتون۔ ’مجھے اپنے آبائی علاقے کو خیرباد کہہ کر دارالحکومت کی جانب جانا پڑا اور پھر آخرِکار میں تعلیم کے سلسلے میں دوسرے ملک منتقل ہوگئی۔ اس لیے وہ لمحات جب میں نے اپنے شاگردوں کو اُن کے وسائل دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ بانٹتے دیکھا تو میں بہت خوش تھی اور میں نے سوچا یہ تعلیم کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ میرے شاگردوں کو اتنے دُور سفر کر کے نہیں جانا پڑے گا اور وہ، وہ سب کام کر سکتے ہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت میں نے یہ سوچا کہ ’دنیا تبدیل ہونے والی ہے۔‘
ڈورکس متھونی: کینیا
کمپیوٹر سائنسدان، چیف ایگزیکٹو اور اوپن ورلڈ لمیٹڈ اور اے ایف چیکس کی علاقائی تنظیم کی بانی، افریقہ بھر میں خواتین میں کمپیوٹنگ کے حوالے سے رہنما اور اُن کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے حوالے سے قدم اُٹھانے والی خاتون۔
’جب میں اپنی پہلی نوکری کررہی تھی تو مجھے اس بات کا ادراک ہوا کہ میں اُس وقت اپنی تنظیم کی واحد خاتون تھی۔ اس لیے اس موقع پر میں نے خواہش کی کہ میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈوں جسے ہم انٹرن کے طور پر رکھ سکیں۔ میں صرف اس بات کو یقینی بنانا چاہتی تھی کہ میں کام کی جگہ پر مزید لڑکیوں کو دیکھ سکوں۔‘
،تصویر کا کیپشنڈورکس متھونی: کینیا کمپیوٹر سائنسدان، چیف ایگزیکٹو اور اوپن ورلڈ لمیٹڈ اور اے ایف چیکس کی علاقائی تنظیم کی بانی، افریقہ بھر میں خواتین میں کمپیوٹنگ کے حوالے سے رہنما اور اُن کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے حوالے سے قدم اُٹھانے والی خاتون۔ ’جب میں اپنی پہلی نوکری کررہی تھی تو مجھے اس بات کا ادراک ہوا کہ میں اُس وقت اپنی تنظیم کی واحد خاتون تھی۔ اس لیے اس موقع پر میں نے خواہش کی کہ میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈوں جسے ہم انٹرن کے طور پر رکھ سکیں۔ میں صرف اس بات کو یقینی بنانا چاہتی تھی کہ میں کام کی جگہ پر مزید لڑکیوں کو دیکھ سکوں۔‘
پورنامی میگینیما: سری لنکا
اینیمیٹر اور فلم ساز ریسپیکٹ گرلز آن انٹرنیٹ کے نام سے قائم تنظیم کی بانی جو خواتین یا لڑکیوں کو آن لائن ہراساں کرنے سے بچاؤ کے حوالے سے مہم چلاتی ہیں۔
’میری والدہ ایک آئی سی ٹی استاد اور میرے والد ایک آئی ٹی پروفشنل ہیں۔ اس لیے میں اپنی پیدائش کے روز سے ہی ٹیکنالوجی سے منسلک تھی۔ میں اپنے ساتھیوں سے قبل ہی دنیا کے متعلق جان گئی اور یہ جان کر کہ خواتین کس طرح دنیا میں تبدیلی لا رہی ہیں اور اس بات نے مجھے بااختیار بنایا کہ میں اپنے خوابوں کو مکمل کر سکوں۔ میں ایک فلمی ہدایتکارہ بننا چاہتی ہوں جو اپنی فلم کے ذریعے سماجی مسائل پر بات کر سکے۔ یہ اب میرا خواب ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنپورنامی میگینیما: سری لنکا اینیمیٹر اور فلم ساز ریسپیکٹ گرلز آن انٹرنیٹ کے نام سے قائم تنظیم کی بانی جو خواتین یا لڑکیوں کو آن لائن ہراساں کرنے سے بچاؤ کے حوالے سے مہم چلاتی ہیں۔ ’میری والدہ ایک آئی سی ٹی استاد اور میرے والد ایک آئی ٹی پروفشنل ہیں۔ اس لیے میں اپنی پیدائش کے روز سے ہی ٹیکنالوجی سے منسلک تھی۔ میں اپنے ساتھیوں سے قبل ہی دنیا کے متعلق جان گئی اور یہ جان کر کہ خواتین کس طرح دنیا میں تبدیلی لا رہی ہیں اور اس بات نے مجھے بااختیار بنایا کہ میں اپنے خوابوں کو مکمل کر سکوں۔ میں ایک فلمی ہدایتکارہ بننا چاہتی ہوں جو اپنی فلم کے ذریعے سماجی مسائل پر بات کر سکے۔ یہ اب میرا خواب ہے۔‘