جب میں بڑی ہوں گی تو کیا بنوں گی؟

انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے فوٹوگرافر میریڈتھ ہچنسن کو یہ جاننے کے لیے بھیجا کہ شام کی جنگ سے متاثرہ بچے اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

شام کی جنگ سے متاثرہ بچے اپنے موجودہ مایوس کن حالات کے باجود بہت بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) نے فوٹوگرافر میریڈتھ ہچنسن کو یہ جاننے کے لیے بھیجا کہ یہ بچے اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اردن کے زطاری یا مفرق کیمپ میں رہنے والی بچیوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرنے کے لیے کہا گیا کہ بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشام کی جنگ سے متاثرہ بچے اپنے موجودہ مایوس کن حالات کے باجود بہت بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) نے فوٹوگرافر میریڈتھ ہچنسن کو یہ جاننے کے لیے بھیجا کہ یہ بچے اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اردن کے زطاری یا مفرق کیمپ میں رہنے والی بچیوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرنے کے لیے کہا گیا کہ بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہیں۔
ان لڑکیوں کی ان لباس میں تصویر لی گئی ہے جو وہ بننا چاہتی ہیں۔ 12 سالہ ہاجا خلاباز بننا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے جب سے ہم نے نظام شمسی کے بارے میں پڑھا ہے میں خود کو اوپر آسمان میں ہی دیکھتی ہوں۔ میں خلاباز بننا چاہتی ہوں کیونکہ یہ دنیا کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنان لڑکیوں کی ان لباس میں تصویر لی گئی ہے جو وہ بننا چاہتی ہیں۔ 12 سالہ ہاجا خلاباز بننا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے جب سے ہم نے نظام شمسی کے بارے میں پڑھا ہے میں خود کو اوپر آسمان میں ہی دیکھتی ہوں۔ میں خلاباز بننا چاہتی ہوں کیونکہ یہ دنیا کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
11 سالہ فاطمہ مستقبل کی سرجن بننا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: اس تصویر میں میں ایک مریض کا ایکسرے دیکھ رہی ہوں اور یہ پتہ چلانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ آخر سینے میں درد کیوں ہے۔ میں اپنے علاقے کی قابل احترام سرجن ہوں اور میں جس شخص کی سب سے زیادہ فکر کرتی ہوں وہ میرے والد ہیں جنھیں صحت کے بہت سے مسائل ہیں۔
،تصویر کا کیپشن11 سالہ فاطمہ مستقبل کی سرجن بننا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: اس تصویر میں میں ایک مریض کا ایکسرے دیکھ رہی ہوں اور یہ پتہ چلانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ آخر سینے میں درد کیوں ہے۔ میں اپنے علاقے کی قابل احترام سرجن ہوں اور میں جس شخص کی سب سے زیادہ فکر کرتی ہوں وہ میرے والد ہیں جنھیں صحت کے بہت سے مسائل ہیں۔
12 سالہ منتہٰی کہتی ہیں کہ مجھے بچپن سے ہی لوگوں کی تصاویر لینا بہت پسند ہے۔ میں مختلف تقاریب میں جاکر یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ ایک پیشہ ور فوٹوگرافر کے طور پر میں اپنی تصاویر سے لوگوں میں امید جگاؤں گی اور محبت اور سمجھداری کی حوصلہ افزائی کروں گی۔
،تصویر کا کیپشن12 سالہ منتہٰی کہتی ہیں کہ مجھے بچپن سے ہی لوگوں کی تصاویر لینا بہت پسند ہے۔ میں مختلف تقاریب میں جاکر یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ ایک پیشہ ور فوٹوگرافر کے طور پر میں اپنی تصاویر سے لوگوں میں امید جگاؤں گی اور محبت اور سمجھداری کی حوصلہ افزائی کروں گی۔
16 سالہ ملک کہتی ہیں کہ میں ہمیشہ سے پولیس افسر بننا چاہتی ہوں کیونکہ پولیس نہ صرف لوگوں کو بچاتے ہیں بلکہ وہ سماج میں انصاف قائم کرتے ہیں۔ میں دوسری لڑکیوں کو بھی پولیس میں آنے کی ترغیب دیتی ہوں۔
،تصویر کا کیپشن16 سالہ ملک کہتی ہیں کہ میں ہمیشہ سے پولیس افسر بننا چاہتی ہوں کیونکہ پولیس نہ صرف لوگوں کو بچاتے ہیں بلکہ وہ سماج میں انصاف قائم کرتے ہیں۔ میں دوسری لڑکیوں کو بھی پولیس میں آنے کی ترغیب دیتی ہوں۔
16 سالہ فاطمہ کہتی ہیں: میں ہمیشہ سے ماہر تعمیرات بننا چاہتی ہوں۔ جب میں چھوٹی تھی تو لوگ کہتے تھے کہ یہ کام خواتین کا نہیں ہے اور انھوں نے مجھے خواتین کے کام کی رغبت دلائی لیکن میں ہمیشہ لوگوں کے لیے خوبصورت مکانات تعمیر اور ڈیزائن کرنا چاہتی ہوں تاکہ لوگوں کو خوشی ہو۔
،تصویر کا کیپشن16 سالہ فاطمہ کہتی ہیں: میں ہمیشہ سے ماہر تعمیرات بننا چاہتی ہوں۔ جب میں چھوٹی تھی تو لوگ کہتے تھے کہ یہ کام خواتین کا نہیں ہے اور انھوں نے مجھے خواتین کے کام کی رغبت دلائی لیکن میں ہمیشہ لوگوں کے لیے خوبصورت مکانات تعمیر اور ڈیزائن کرنا چاہتی ہوں تاکہ لوگوں کو خوشی ہو۔
15 سالہ وسام نے کہا: شام میں ہمارے پڑوس میں ایک فارمیسی تھی اور جب میں چھوٹی تھی تو وہاں مدد کرنے چلی جاتی تھی۔ جب جنگ چھڑی تو میں نے اس فارماسسٹ کو زخمیوں کی امداد کرتے دیکھا تو میں نے سوچا کہ یہ اہم کام ہے اور مجھے یہی کرنا چاہیے۔ اب جبکہ میں فارماسسٹ ہوں مجھے دوسری لڑکیوں کے لیے رول ماڈل ہونا چاہیے۔
،تصویر کا کیپشن15 سالہ وسام نے کہا: شام میں ہمارے پڑوس میں ایک فارمیسی تھی اور جب میں چھوٹی تھی تو وہاں مدد کرنے چلی جاتی تھی۔ جب جنگ چھڑی تو میں نے اس فارماسسٹ کو زخمیوں کی امداد کرتے دیکھا تو میں نے سوچا کہ یہ اہم کام ہے اور مجھے یہی کرنا چاہیے۔ اب جبکہ میں فارماسسٹ ہوں مجھے دوسری لڑکیوں کے لیے رول ماڈل ہونا چاہیے۔
13 سالہ رمایہ مستقبل میں خود کو ایک ڈاکٹر کے طور پر دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں: شام اور اردن میں گلیوں سے گزرتے ہوئے میں لوگوں کو تکلیف میں دیکھتی تھی اور میں ہمیشہ ان زخمیوں اور بیماروں کی مدد کرنا چاہتی تھی۔ اب جبکہ میں ڈاکٹر ہوں تو مجھ میں یہ صلاحیت ہے کہ میں لوگوں کے دکھ درد دور کروں۔
،تصویر کا کیپشن13 سالہ رمایہ مستقبل میں خود کو ایک ڈاکٹر کے طور پر دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں: شام اور اردن میں گلیوں سے گزرتے ہوئے میں لوگوں کو تکلیف میں دیکھتی تھی اور میں ہمیشہ ان زخمیوں اور بیماروں کی مدد کرنا چاہتی تھی۔ اب جبکہ میں ڈاکٹر ہوں تو مجھ میں یہ صلاحیت ہے کہ میں لوگوں کے دکھ درد دور کروں۔
18 سالہ نور خود کو مستقبل کی وکیل کے طور پر دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں: میں خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ خواتین اپنے سماج کے لیے فیصلے لیں اور اپنی رائے بے خوف ہوکر ظاہر کریں۔
،تصویر کا کیپشن18 سالہ نور خود کو مستقبل کی وکیل کے طور پر دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں: میں خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ خواتین اپنے سماج کے لیے فیصلے لیں اور اپنی رائے بے خوف ہوکر ظاہر کریں۔
15 سالہ سارہ مستقبل کی فیشن ڈیزائنر ہیں۔ کہتی ہیں: مستقبل میں میں مشہور فیشن ڈیزائنر ہوں اور میں ایسے لباس ڈیزائن کرتی ہوں جس سے خواتین خوش ادا اور نفیس محسوس کریں۔
،تصویر کا کیپشن15 سالہ سارہ مستقبل کی فیشن ڈیزائنر ہیں۔ کہتی ہیں: مستقبل میں میں مشہور فیشن ڈیزائنر ہوں اور میں ایسے لباس ڈیزائن کرتی ہوں جس سے خواتین خوش ادا اور نفیس محسوس کریں۔
11 سالہ نسرین پولیس افسر بننا چاہتی ہیں۔ کہتی ہیں: میں نے پہلی بار خواتین پولیس پہلی بار اس وقت دیکھی جب میں 11 سال کی تھی اس سے پہلے میں اس پیشے کو اپنانے کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ میں اس وقت سکول بھی نہیں جاتی تھی اور جانا بھی نہیں چاہتی تھی لیکن جب میں نے یہ ٹھان لی کہ میں پولیس افسر بنوں گی تو پھر میں نے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے خوب محنت کی۔ اب جبکہ کہ میں پولیس افسر بن گئی ہوں میں لوگوں کی مدد کرتی ہوں، انھیں خطرات سے نکالتی ہوں۔
،تصویر کا کیپشن11 سالہ نسرین پولیس افسر بننا چاہتی ہیں۔ کہتی ہیں: میں نے پہلی بار خواتین پولیس پہلی بار اس وقت دیکھی جب میں 11 سال کی تھی اس سے پہلے میں اس پیشے کو اپنانے کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ میں اس وقت سکول بھی نہیں جاتی تھی اور جانا بھی نہیں چاہتی تھی لیکن جب میں نے یہ ٹھان لی کہ میں پولیس افسر بنوں گی تو پھر میں نے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے خوب محنت کی۔ اب جبکہ کہ میں پولیس افسر بن گئی ہوں میں لوگوں کی مدد کرتی ہوں، انھیں خطرات سے نکالتی ہوں۔
13 میروا مستقبل میں خود کو ایک مصور کی طور پر دیکھتی ہیں۔ اس تصویر میں ایک معروف پینٹر ہوں۔ جب میں چھوٹی تھی تو پینٹنگ میرا شغل تھا لیکن جب میں بڑی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ میں پینٹنگ میں بہت با صلاحیت ہوں پھر میں نے آرٹ سکول کا رخ کیا۔ مجھے امید ہے کہ میری تصاویر دنیا میں امن و سلامتی پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگي۔
،تصویر کا کیپشن13 میروا مستقبل میں خود کو ایک مصور کی طور پر دیکھتی ہیں۔ اس تصویر میں ایک معروف پینٹر ہوں۔ جب میں چھوٹی تھی تو پینٹنگ میرا شغل تھا لیکن جب میں بڑی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ میں پینٹنگ میں بہت با صلاحیت ہوں پھر میں نے آرٹ سکول کا رخ کیا۔ مجھے امید ہے کہ میری تصاویر دنیا میں امن و سلامتی پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگي۔
دس سالہ امانی خود کو پائلٹ کے طور پر دیکھتی ہیں۔ کہتی ہیں: مجھے طیارے بہت پسند ہیں۔ اس وقت سے پسند ہے جب میں کبھی طیارے پر سوار بھی نہیں ہوئی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ مجھے پائلٹ بننا ہے۔ پرواز کرنا دلچسپ اور مہم جو کام ہے۔جب میں چھوٹی تھی تو میرے بھائی کہتے تھے کہ لڑکیا پائلٹ نہیں بن سکتیں لیکن مجھے اندر سے یقین تھا کہ میں یہی بنوں گی۔
،تصویر کا کیپشندس سالہ امانی خود کو پائلٹ کے طور پر دیکھتی ہیں۔ کہتی ہیں: مجھے طیارے بہت پسند ہیں۔ اس وقت سے پسند ہے جب میں کبھی طیارے پر سوار بھی نہیں ہوئی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ مجھے پائلٹ بننا ہے۔ پرواز کرنا دلچسپ اور مہم جو کام ہے۔جب میں چھوٹی تھی تو میرے بھائی کہتے تھے کہ لڑکیا پائلٹ نہیں بن سکتیں لیکن مجھے اندر سے یقین تھا کہ میں یہی بنوں گی۔
17 سالہ بسیما ڈیئری شیف کے طور پر دیکھتی ہیں۔ مجھے سدا سے کھانے پکانے کا شوق رہا۔ بچپن میں اپنی ماں کے ساتھ زیادہ تر وقت باورچی خانے میں گزارتی اور طرح طرح کی چیزیں بنانا سیکھتی۔ اب ایک شیف کے طور پر میرا اپنا ریستوراں ہے جہاں میں اپنی پسند کی چیزیں تیار کرتی ہوں اور ایک دکان ہے جہاں میں مختلف قسم کے دودھ کے سامان تیار کرکے فروخت کرتی ہوں۔
،تصویر کا کیپشن17 سالہ بسیما ڈیئری شیف کے طور پر دیکھتی ہیں۔ مجھے سدا سے کھانے پکانے کا شوق رہا۔ بچپن میں اپنی ماں کے ساتھ زیادہ تر وقت باورچی خانے میں گزارتی اور طرح طرح کی چیزیں بنانا سیکھتی۔ اب ایک شیف کے طور پر میرا اپنا ریستوراں ہے جہاں میں اپنی پسند کی چیزیں تیار کرتی ہوں اور ایک دکان ہے جہاں میں مختلف قسم کے دودھ کے سامان تیار کرکے فروخت کرتی ہوں۔
12 سالہ فاطمہ خود کو مستقبل کے استاد کے طور پر دیکھتی ہیں۔ اس تصویر میں صبح صبح میں اپنی کلاس میں اپنے طلبہ کا انتظار کر رہی ہوں۔ میں چھوٹے بچوں کو عربی پڑھنا لکھنا سکھاتی ہوں۔ میں بہت مہربان ہوں اور مکمل استاد ہوں۔ سختی کے وقت سختی اور نرمی کے وقت نرمی۔
،تصویر کا کیپشن12 سالہ فاطمہ خود کو مستقبل کے استاد کے طور پر دیکھتی ہیں۔ اس تصویر میں صبح صبح میں اپنی کلاس میں اپنے طلبہ کا انتظار کر رہی ہوں۔ میں چھوٹے بچوں کو عربی پڑھنا لکھنا سکھاتی ہوں۔ میں بہت مہربان ہوں اور مکمل استاد ہوں۔ سختی کے وقت سختی اور نرمی کے وقت نرمی۔
نو سالہ حبہ بچوں کی ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ بچوں کی مدد کرنا چاہتی تھیں اور اسی وجہ سے میں بچوں کی ڈاکٹر بنی۔ میں بہت مہربان اور پیار کرنے والی ہوں۔ اسی لیے میں بہت اچھی ڈاکٹر ہوں جس پر بچے بھروسہ کر سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشننو سالہ حبہ بچوں کی ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ بچوں کی مدد کرنا چاہتی تھیں اور اسی وجہ سے میں بچوں کی ڈاکٹر بنی۔ میں بہت مہربان اور پیار کرنے والی ہوں۔ اسی لیے میں بہت اچھی ڈاکٹر ہوں جس پر بچے بھروسہ کر سکتے ہیں۔