دنیا بھر میں نئے سال کا جشن اور آتش بازی کے مظاہرے
،تصویر کا کیپشننئے سال کو خوش آمدید کہنے والے اولین ممالک میں ہر سال کی طرح آسٹریلیا سرِ فہرست رہا۔ اس سال بھی ہزاروں لوگ سڈنی کے ساحل کے قریب واقع ’ہاربر اینڈ اوپرا ہاؤس‘ پر جمع ہوئے اور آتش بازی سے لطف اندوز ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنچین کے شہر بیجنگ میں شہرِ ممنوعہ کے قریب لوگوں کی بڑی تعداد نئے سال کے استقبال کے لیے جمع ہوئی
،تصویر کا کیپشنجاپان کے شہر ٹوکیو میں فضا میں غبارے چھوڑ کر نئے سال کا استقبال کیا گیا
،تصویر کا کیپشنتائیوان کے دارالحکومت میں نئے سال کی سب سے بڑی تقریب بلند وبالا عمارت ’تائی پی 101‘ پر منعقد ہوئی
،تصویر کا کیپشنملائیشیا کے شہر کوالالمپور کا پیٹروناس ٹاور بھی بقعۂ نور بنا رہا
،تصویر کا کیپشنمصر کے قدیم اہرام نئے سال کے آغاز پر روشنیوں سے جگمگا اٹھے
،تصویر کا کیپشندبئی میں برج خلیفہ کے ساتھ برج العرب پر بھی آتش بازی کا مظاہرہ ہوا
،تصویر کا کیپشنیورپ میں روس کے دارالحکومت ماسکو کا ریڈ سکوائر نئے سال کی تقریب کا مرکز بنا
،تصویر کا کیپشنسوئٹزر لینڈ کے مُوسی ڈورف کے علاقے میں ہر عمر کے لوگوں نے ٹھنڈے پانی کی پرواہ کیے بغیر نئے سال کا آغاز مقامی جھیل میں ڈبکیاں لگا کر کیا
،تصویر کا کیپشنبلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں سکیورٹی کی وجہ سے سالانہ آتش بازی منسوخ کر دی گئی لیکن لوگ سڑکوں پر جمع ہو کر جشن مناتے رہے۔
،تصویر کا کیپشنفرانس میں نومبر کے دہشت گرد حملوں کے سوگ میں آتش بازی تو نہیں ہوئی لیکن لاکھوں افراد شانزے لیزے پر محرابِ فتح کے پاس جمع ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنلندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے آتش بازی کا پروگرام دیکھنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔
،تصویر کا کیپشنبرازیل میں لوگ ساحلِ سمندر پر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے جمع ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنامریکی شہر نیویارک کا ٹائمز سکوائر نئے سال کی مرکزی تقریب کا مرکز تھا
،تصویر کا کیپشنبھارت کے شہر احمدآباد میں ایک نوجوان نے نئے سال کا استقبال کرنے کے لیے زُلف تراش کی دوکان کا رخ کیا
،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر جموں میں سکول کے بچوں نے نئے سال کا آغاز 2016 کے ہندسوں کی شکل میں کھڑے ہو کر کیا