فلپائن سے تعلق رکھنے والی زیزا باکانی کی زندگی کے سفر کا تصویری احوال۔
،تصویر کا کیپشنباکانی کا کہنا ہے کہ ’میرا تعلق فلپائن کے شمالی علاقے سے ہے۔ ساحل پر کھیلتے ہوئے مچھیرے کے خاندان کی یہ تصویر مجھے اپنے خاندان کی یاد دلاتی ہے۔ ہم غریب تھے لیکن اکٹھے تھے۔‘
،تصویر کا کیپشن’میں نے فلپائن 19 سال کی عمر میں چھوڑا اور ہانگ کانگ میں بطور ملازمہ اور آیا کام شروع کیا۔ میں کل چھ بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ جہاں سے میں آئی تھی یہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ میں نے شوقیہ سٹریٹ فوٹوگرافی شروع کر دی۔‘
،تصویر کا کیپشنانھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے سٹریٹ فوٹوگرافی سے ڈاکیومینٹری فوٹوگرافی کا آغاز کر دیا، میری زیادہ تر توجہ ہانگ کانگ میں کام کرنے والی بڑی آبادی تھی۔‘
،تصویر کا کیپشن ’جب میں نے ہراساں کی جانے والی گھریلو ملازماؤں سے ملنا شروع کیا، جیسا کہ اس تصویر میں شرلی ہیں، تو مجھے خیال آیا کہ میں ان خواتین کو بہتر آواز فراہم کر سکتی ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشن’شرلی کی کمر پر ان کے مالک کے گھر میں ایک حادثے کے دوران گرم سوپ گر گیا تھا جس کے بعد ان کا معاہدہ اچانک ختم کر دیا گیا تھا۔‘
،تصویر کا کیپشن’میں نے ہانگ کانگ میں گذشتہ سال جمہوریت کی حامی ’امبریلا تحریک‘ کے دوران رپورٹنگ کی۔ میں نے ایک ایک رات کی تصاویر بنائی کیونکہ میں اس تاریخی لمحات کو ریکارڈ کر لینا چاہتی تھی۔‘
،تصویر کا کیپشن’میں اس مہم کے دوران ان ہر لمحے کا ریکارڈ رکھنا چاہتی تھی۔ اس کی ایک مثال یہ شخص ہے جو صبح کے چار بجے سو رہا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنباکانی کا مزید کہنا تھا کہ ’میری زندگی اس وقت بدل گئی جب رواں سال کے آغاز میں مجھے میگنم فاؤنڈیشن کی طرف سے وظیفہ ملا اور میں نیویارک چلی گئی۔ میری نیویارک میں پسندیدہ جگہ سب وے ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنانھوں نے کہا کہ ’یہاں جرسی شہر میں سمگلنگ کا نشانہ بننے والا ایک گروہ ہے جو اس تصویر میں بار بی کیو پارٹی کر رہا ہے۔ میں انھیں بتانا چاہتی ہوں کہ وہ اپنی روز مرہ زندگی جاری رکھیں تاکہ انھیں صرف متاثرین نہ سمجھا جائے۔‘
،تصویر کا کیپشن ’حال ہی میں سکالر شپ کے دوران میں نے ایک ہفتہ ریاست مزروی میں گزارا جہاں میں نے تاثراتی تصاویر سے نکل کر چھوٹے چھوٹے لمحات کو عکس بند کرنا سیکھا، جیسا کہ یہ خاتون، جو اپنے گھر میں بائبل پڑھ رہی ہیں۔‘