پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد یورپ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
،تصویر کا کیپشنپیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد وہاں کے عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے پورے یورپ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
،تصویر کا کیپشناس سلسلے میں فرانس سمیت یورپ کے مختلف شہروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنان حملوں میں پیرس کے چھ مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں 129 افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنفرانس کے وزیر اعظم مینوئل والس نے کہا ہے کہ فرانسیسی حکام کے علم میں ہے کہ مزید دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور پیرس حملوں کی منصوبہ بندی شام میں کی گئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنگذشتہ روز بھی پیرس کے مختلف مقامات پر متاثرین سے اظہار یک جہتی کے لیے دعائیہ تقریبات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنلندن کے ٹریفالگر سکوئر پر بھی تقریب منعقد کی گئی۔
،تصویر کا کیپشنہالینڈ کے شہر دا ہیگ میں فرانسیسی سفارت خانے میں منعقدہ تقریب میں ہالینڈ کے حکومتی ارکان نے شرکت کی۔
،تصویر کا کیپشنسوئٹزرلینڈ کے شہر بازل میں پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں لوگوں نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
،تصویر کا کیپشنفرانس کے صدر فرانسوا اولاند کی قیادت میں پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں گرینج کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بجے ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی گئی۔
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق فرانس میں نافذ ہنگامی حالت کی مدت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ہنگامی حالت 12 روز سے زائد عرصے کے لیے نافذ کرنے کے لیے پارلیمان کی منظوری ضروری ہے۔