1970 سے 1980 کی دہائی میں گرافیٹی آرٹ سب وے سٹیشن سے پروان چڑھا۔
،تصویر کا کیپشن1970 سے 1980 کے دہائی کے دوران دو فوٹوگرافروں نے نیویارک کے زیر زمین ٹرین سٹیشن میں گرافیٹی آرٹ کو کیمرے کے آنکھ میں محفوظ کیا۔
،تصویر کا کیپشنابتدا میں تو انھوں نے الگ الگ کام شروع کیا لیکن سنہ 1984 میں انھوں نے زیر زمین سب وے میں گرافیٹی فن کو کتابی شکل دی۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 1980 کے اختتام پر نیویارک میں گرافیٹی کلچر کو ختم کرنے کی بات کی گئی اور حکام نے ٹرین کی پٹریوں تک رسائی کو مشکل بنانے کے لیے اقدامات کیے۔
،تصویر کا کیپشنوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گرافیٹی آرٹ بنانے والے مصور میں سے کچھ نے امریکہ اور یورپ میں زندگی گزاری اور بعض کا گزر بسر جیل میں ہوا۔اب یہ آرٹ شہر کا حصہ ہے گو کہ اب یہ دیواروں پر نظر نہیں آتے لیکن یہ ڈیزائنرز کے کپڑوں پر ضرور نظر آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکوپر کہتی ہیں کہ نیویارک میں گرافیٹی آرٹ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ انھیں کسی میگزین یا اخبار کے لیے اس آرٹ کی تصاویر بنانے پر فخر ہے۔
،تصویر کا کیپشنتصاویر لینے کے انھوں نے کئی کئی گھنٹوں تک انتظار کیا۔ اسے وقت کا جب خوبصورت قدرتی روشنی کے امتزاج سے یہ فن اور بھی نکھرا ہوا دکھائی دیا۔
،تصویر کا کیپشنہنری چیلفنٹ نے گرافیٹی آرٹ کو مختلف انداز سے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے۔ انھوں نے مووینگ کیمرے سے تصاویر لینے کے بعد انھیں آپس میں یکجا کیا۔
،تصویر کا کیپشنسب وے آرٹ پر منبی فن پاروں کی کتاب فوٹوگرافر مرتھا کوپر اور ہنری چیلفنٹ نے سنہ 1982 میں شائع کی۔