ترکی میں ہزاروں افراد انقرہ بم دھماکوں کا نشانے بننے والوں کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ تصویری جھلکیاں۔
،تصویر کا کیپشنسنیچر کے روز ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں دو دھماکوں میں ایک سو کے قریب افراد کی ہلاکت کے بعد اتوار کو ہزاروں لوگ ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شہر کے مرکز میں جمع ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنحکومت نے گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکوں کے بعد تین روز کے سوگ کا اعلان کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے دھماکوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت ریلی کے موقعے پر ضروری حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں 245 افراد زخمی ہیں جن میں سے 48 کی حالت تشویشناک ہے۔
،تصویر کا کیپشنبی بی سی نامہ نگار مارک لوون کے بقول انقرہ میں سنیچر کو جو افسوسناک واقعہ ہوا ہے وہ اس تاریک دور کی نشاندھی کرتا ہے جس کا سامنا آج ترکی کو ہے۔
،تصویر کا کیپشن جولائی میں ’پی کے کے‘ اور ترک حکومت کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے ختم ہونے کے بعد سے ترکی دونوں جماعتوں کے حامیوں کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں میں گِھر چکا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسنیچر کو ریلی کا اہتمام کرنے والی کُرد نواز جماعت ’ایچ ڈی پی‘ کا دعویٰ ہے کہ دھماکوں میں 128 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دیگر ذرائع سے ابھی تک 95 افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس موقعے پر کچھ حاضرین نے دھماکوں والے مقام پر یادگاری پھول رکھنے کی کوشش کی جس پر پولیس اور ان کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی۔
،تصویر کا کیپشننامہ نگاروں کے مطابق انقرہ میں عام لوگوں کو خدشہ ہے کہ اب ملک میں تشدد میں اضافہ ہو جائے گا اور آئندہ تین ہفتوں میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حکومت امن عامہ برقرار رکھنے میں ناکام ہو جائے گی۔