حج کے موقع پر بھگڈر، سینکڑوں ہلاکتیں

سعودی عرب میں مسلمانوں کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ مچنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر گئی ہے جس میں مختلف قومیتوں کے لوگ شامل ہیں۔

حج میں بھگڈر
،تصویر کا کیپشنبھگدڑ منیٰ کے مقام پر مچی جو مکہ سے پانچ کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہاں حجاج حج کے ایک رکن رمی جمرات کی دائیگی کے لیے جاتے ہیں
حج میں بھگڈر
،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کے محکمۂ شہری دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب حاجی جمرات پر کنکر پھینکنے کے لیے شارع نمبر 204 اور 223 کے سنگم پر موجود تھے
حج میں بھگڈر
،تصویر کا کیپشنسماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سعودی سول ڈیفنس نے جمعرات کی صبح پیش آنے والے اس حادثے میں کم ازکم 700 حاجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی ہے
حج میں بھگڈر
،تصویر کا کیپشنحاجیوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں حاجی زمین پر گر گئے اور کچلے جانے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے
حج میں بھگڈر
،تصویر کا کیپشنسعودی حکام نے تاحال ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے تاہم کہا جا رہا ہے کہ مرنے والوں میں نائجیریا سے تعلق رکھنے والے حاجیوں کی بڑی تعداد شامل ہے
حج میں بھگڈر
،تصویر کا کیپشنسعودی حکام کا کہنا ہے کہ 4000 کے قریب امدادی کارکن اور 220 ایمبولینسیں جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں میں شریک رہے اور زخمیوں کو چار مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے
حج میں بھگڈر
،تصویر کا کیپشن یہ رواں برس سعودی عرب میں حاجیوں کی آمد کے بعد پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ ہے
حج میں بھگڈر
،تصویر کا کیپشندنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ پہنچتے ہیں اور اس سال حج کے لیے مجموعی طور پر 30 لاکھ سے زیادہ مسلمان سعودی عرب میں موجود ہیں