ہولی کے رنگ ہر ملک اور ہر موقع پر۔۔

    • مصنف, غضنفر حیدر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

ہندوؤں کے مقدس تہوار ہولی سے متاثر ہوکر جرمنی سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں نے رنگوں کے اس فیسٹول کو پوری دنیا میں مقبول کرنے کی ٹھان لی ہے۔

تہوار
،تصویر کا کیپشنجرمنی سے تعلق رکھنے والے جیسپر ہیلمن، میکس ریڈل اور میکسم ڈورینکو نے 2012 میں ہندو تہوار ہولی سے متاثر ہو کر رنگوں کے اس تہوار کو منانے کا فیصلہ کیا تھا جس کو انھوں نے ’ ہولی فیسٹول آف کلرز ‘ کا نام دیا۔ وہ اس تہوار کو دنیا کے مختلف ملکوں کے تیس شہروں میں منا چکے ہیں
تہوار
،تصویر کا کیپشن میکس ریڈل کا کہنا ہے کہ دوہزار بارہ میں اس فیسٹول کی کامیاب لانچ کے بعد انھوں نے یہ فیصلہ کیا اس تہوار کو جرمنی کے باہر بھی منایا جائے
تہوار
،تصویر کا کیپشنبرلن، ایمسٹرڈم، ہیمبرگ، بارسلونا، ابوظہبی اور دیگر ممالک کے بعد اس فیسٹول کو ہفتے کو لندن میں منایا گیا جس میں دس ہزار سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا
تہوار
،تصویر کا کیپشناس فیسٹول میں حصہ لینے والے میکس کارمن کا کہنا تھا کہ جب فضا میں رنگ پھیلتے ہیں تو جو ماحول پیدا ہوتا ہے وہ بے حد خوشگوار اور دوستانہ ہوتا ہے
تہوار
،تصویر کا کیپشناس فیسٹول کا انعقاد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فیسٹول کا مقصد ہندو مذہبی تہوار ہولی کے محبت اور امن کے پیغام کو پوری دنیا میں پھیلانا ہے
تہوار
،تصویر کا کیپشنہولی تہوار ہندؤں کا مقدس تہوار ہے جو کہ انڈیا اور نیپال میں منایا جاتا ہے لیکن اب آہستہ آہستہ اس کی مقبولیت مغربی ممالک میں بھی بڑھ رہی ہے
تہوار
،تصویر کا کیپشنفیسٹول میں مقامی اور بین الاقوامی فنکاروں نے بھی شرکت کی اور موسیقی سے عوام کا دل بہلایا
تہوار
،تصویر کا کیپشنلندن میں منعقد ہونے والے اس فیسٹول کا آغاز ہفتے کو دوپہر بارہ بجے ہوا اور اگلے دن نصف رات تک جاری رہا
تہوار
،تصویر کا کیپشنرنگوں سے بھرے اس فیسٹول میں ہر عمر کے لوگوں نے حصہ لیا، لیکن اس میں اکثریت نوجوانوں کی رہی
تہوار
،تصویر کا کیپشنہولی کا تہوار ویسے تو موسم بہار کی آمد پر منایا جاتا ہے لیکن رنگوں کا یہ تہوار اب وقت، موسم اور جغرافیہ کی حدودوں سے آگے نکل چکا ہے