’ہم بھی انسان ہیں‘

یورپ میں مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے راستے تارکینِ وطن کے پرخطر سفر کا تصویری احوال۔

یورپ میں مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے راستے تارکینِ وطن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے وہیں ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ کے ریلوے سٹیشن کو دو دن بند رکھنے کے بعد تارکینِ وطن کے لیے کھول دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنیورپ میں مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے راستے تارکینِ وطن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے وہیں ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ کے ریلوے سٹیشن کو دو دن بند رکھنے کے بعد تارکینِ وطن کے لیے کھول دیا گیا۔
 ریلوے سٹیشن کے دروازے کھلنے کے بعد تارکین وطن تیزی سے سٹیشن میں داخل ہوتے ہوئے دیکھے گئے۔ ایک ٹرین وہاں سے چلی لیکن تھوڑی دیر بعد اسے تارکینِ وطن کے لیے قائم کیے گئے سینٹر کے قریب روک دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشن ریلوے سٹیشن کے دروازے کھلنے کے بعد تارکین وطن تیزی سے سٹیشن میں داخل ہوتے ہوئے دیکھے گئے۔ ایک ٹرین وہاں سے چلی لیکن تھوڑی دیر بعد اسے تارکینِ وطن کے لیے قائم کیے گئے سینٹر کے قریب روک دیا گیا۔
ولیس نے بوڈاپیسٹ سے تقریباً 40 کلو میٹر دور مغرب میں بسکے کے مقام پر ان تارکینِ وطن کو ٹرین سے اتارنا چاہا لیکن انھوں نے اس پر کافی مزاحمت کی۔ ان میں سے کچھ کھڑکیوں پر ضربیں لگا رہے تھے اور ’جرمنی، جرمنی‘ چلا رہے تھے۔ اس دوران متعدد زخمی بھی ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشنولیس نے بوڈاپیسٹ سے تقریباً 40 کلو میٹر دور مغرب میں بسکے کے مقام پر ان تارکینِ وطن کو ٹرین سے اتارنا چاہا لیکن انھوں نے اس پر کافی مزاحمت کی۔ ان میں سے کچھ کھڑکیوں پر ضربیں لگا رہے تھے اور ’جرمنی، جرمنی‘ چلا رہے تھے۔ اس دوران متعدد زخمی بھی ہو گئے۔
ورپی رہنماؤں میں تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں اور ہنگری کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ اصل میں ’جرمنی کا مسئلہ‘ ہے کیونکہ یورپی یونین میں آنے والے سبھی تارکینِ وطن وہاں ہی جانا چاہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنورپی رہنماؤں میں تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں اور ہنگری کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ اصل میں ’جرمنی کا مسئلہ‘ ہے کیونکہ یورپی یونین میں آنے والے سبھی تارکینِ وطن وہاں ہی جانا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ جرمنی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو قبول کرنے پر تیار ہے مگر دوسرے ممالک اس پر آمادہ نہیں۔ مقدونیہ میں پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد سربیا میں داخل میں داخل ہونے کے انتظار میں ہیں۔
،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ جرمنی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو قبول کرنے پر تیار ہے مگر دوسرے ممالک اس پر آمادہ نہیں۔ مقدونیہ میں پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد سربیا میں داخل میں داخل ہونے کے انتظار میں ہیں۔
صرف جولائی میں یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ جرمنی کا اندازہ ہے کہ رواں سال اس کے یہاں آٹھ لاکھ پناہ گزین پہنچیں گے جوگذشتہ سال سے چار گنا زیادہ ہیں۔ ایک خاندان مقدونیہ سے سربیا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا اور ایک ٹرین میں سوار ہے۔
،تصویر کا کیپشنصرف جولائی میں یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ جرمنی کا اندازہ ہے کہ رواں سال اس کے یہاں آٹھ لاکھ پناہ گزین پہنچیں گے جوگذشتہ سال سے چار گنا زیادہ ہیں۔ ایک خاندان مقدونیہ سے سربیا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا اور ایک ٹرین میں سوار ہے۔
تارکین وطن کے بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس 14 ستمبر کو برسلز میں ہوگا۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے یورپی یونین کی تارکین وطن سے متعلق پالیسی پر عدم اتفاق سامنے آ رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتارکین وطن کے بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس 14 ستمبر کو برسلز میں ہوگا۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے یورپی یونین کی تارکین وطن سے متعلق پالیسی پر عدم اتفاق سامنے آ رہا ہے۔
 اطلاعات کے مطابق ترکی کے ساحل کے قریب یونان جانے والی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے پانچ بچوں سمیت 12 پناہ گزین ڈوب گئے ہیں ۔
،تصویر کا کیپشن اطلاعات کے مطابق ترکی کے ساحل کے قریب یونان جانے والی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے پانچ بچوں سمیت 12 پناہ گزین ڈوب گئے ہیں ۔
بدھ کو ہنگری میں کیٹلی کے ریلوے سٹیشن پر پھنسے سینکڑوں تارکینِ وطن نے دوسرے دن بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔
،تصویر کا کیپشنبدھ کو ہنگری میں کیٹلی کے ریلوے سٹیشن پر پھنسے سینکڑوں تارکینِ وطن نے دوسرے دن بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔
4200 پناہ گزین منگل کی شب دو بحری جہازوں کے ذریعے لیزبوس کے جزیرے سے روانہ ہوئے اور ان کی منزل یونان بندرگاہ پیریئس ہے۔
،تصویر کا کیپشن4200 پناہ گزین منگل کی شب دو بحری جہازوں کے ذریعے لیزبوس کے جزیرے سے روانہ ہوئے اور ان کی منزل یونان بندرگاہ پیریئس ہے۔
یورپ کے سرحدی ادارے فرنٹیکس کا کہنا ہے کہ صرف گذشتہ ہفتے کے دوران یونان پہنچنے والے تارکینِ وطن کی تعداد 23 ہزار ہے جو پچھلے ہفتے سے 50 فیصد زیادہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنیورپ کے سرحدی ادارے فرنٹیکس کا کہنا ہے کہ صرف گذشتہ ہفتے کے دوران یونان پہنچنے والے تارکینِ وطن کی تعداد 23 ہزار ہے جو پچھلے ہفتے سے 50 فیصد زیادہ ہے۔
یونانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس تارکینِ وطن کی اتنی بڑی تعداد کی دیکھ بھال کرنے کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں۔ تاہم غیر سرکاری امدادی تنظیموں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر مزید اقدامات ضروری ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیونانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس تارکینِ وطن کی اتنی بڑی تعداد کی دیکھ بھال کرنے کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں۔ تاہم غیر سرکاری امدادی تنظیموں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر مزید اقدامات ضروری ہیں۔
یونان کے مقامی اخبار کاتھیمیرینی کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کی ابتدائی منزل سمجھے جانے والے جزیرے لیزبوس پر گذشتہ ہفتے کے دوران ساڑھے 17 ہزار افراد نے اندراج کروایا۔
،تصویر کا کیپشنیونان کے مقامی اخبار کاتھیمیرینی کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کی ابتدائی منزل سمجھے جانے والے جزیرے لیزبوس پر گذشتہ ہفتے کے دوران ساڑھے 17 ہزار افراد نے اندراج کروایا۔
منگل کی شب پہنچنے والی کشتی کے ایک مسافر اور شام سے تعلق رکھنے والے استاد ایشام نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو ہماری مدد کرنی ہوگی۔ ہم بھی انسان ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنمنگل کی شب پہنچنے والی کشتی کے ایک مسافر اور شام سے تعلق رکھنے والے استاد ایشام نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو ہماری مدد کرنی ہوگی۔ ہم بھی انسان ہیں۔‘