،تصویر کا کیپشنپاکستان کے سابق فیلڈ مارشل ایوب خان نے اس عجائب گھر کی بنیاد سنہ 1963 میں رکھی تھی۔ سنہ 2008 میں شدت پسندی کی وجہ سے یہ عجائب گھر بند کر کے یہاں سے نوادرات دیگر مقامات پر منتقل کر دیے گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنلکڑی سے بنی قدیم جائے نماز جو ظاہر کرتی ہے کہ سوات کا معاشرہ روایتی طور پر قدامت پسند رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنلکڑی سے بنے دلکش سٹینڈ۔ یہ عجائب گھر بیرونی امداد سے گذشتہ برس تزین و آرائش کے بعد دوبارہ کھولا گیا ہے۔ نئی تعمیر میں مزید کمرے اور ہال بھی شامل کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناناج پیسنے کے لیے پتھر کی قدیم سل۔
،تصویر کا کیپشنمہاتمہ بدھ کے قیمتی بت اور پتھروں کے ذریعے اس وقت کی کہانی پڑھنے کے لیے یہ عجائب گھر زبردست جگہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنمہاتمہ بدھ کے پاؤں کے نشان جو اتنے بڑے ہیں کہ بظاہر کسی انسان کے دکھائی نہیں دیتے۔
،تصویر کا کیپشنمعلوم نہیں کیا وجہ ہے کہ یہاں اکثر بتوں کے چہرے مسخ ملے۔ یہ جان بوجھ کر کیے گئے یا کھدائی کے دوران ان کی یہ حالت ہوئی معلوم نہیں۔ لیکن پتھر کا یہ بت اس سے محفوظ رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ عجائب گھر غیرملکی امداد کے ساتھ بحال ہوا ہے، اور اس کے داخلے کا ٹکٹ آج بھی وہی ہے جو شاید سنہ 1963 کے وقت چھاپے گئے تھے۔ مہر لگا کر ایک کی جگہ اب ٹکٹ دس روپے کر دیا گیا ہے لیکن بتایا گیا کہ اس میوزیم میں آنےمیں بعض افراد اس کی ادائیگی پر بھی لڑائی کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ مٹی سے بنے تابوت ہیں جن میں قدیم زمانے کے لوگ چھوٹے بچوں کو دفنایا کرتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنوہ قدیم ہتھیار جن کی ہر انسانی معاشرے کو چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے ضرورت رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنعجائب گھر کے صحن میں دیوار پر یہ نقش و نگار شاید دلکشی بڑھانے کے لیے بنائے گئے۔
،تصویر کا کیپشنعجائب گھر کا صدر دروازہ۔ قیمتی آثار قدیمہ کو نقصان یا چوری سے بچانے کی خاطر مضبوط آہنی گِرل لگائی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنہے تو یہ عجائب گھر کا احاطہ لیکن یہاں مالاکنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے کی نئی یادگار بھی تعمیر کی گئی ہے۔ (تحریر و تصاویر: ہارون رشید، بی بی سی اردو ڈاٹ کام)