ایک عہدہ ایک پینشن کے مطالبے میں کئی ایسے سابق جنرل، کرنل اور فوجی ہیں جنہوں نے 1965 کی جنگ میں حصہ لیا۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے صدر اور وزیر اعظم جب جمعے کو دہلی کے انڈیا گیٹ پر 1965 کی جنگ میں فتح کے جشن میں شامل ہو رہے تھے وہیں کچھ ہی دور سابق فوجی ایک عہدہ ایک پنشن کی مانگ کے حوالے سے جاری تحریک کے تحت مظاہرہ کر رہے تھے۔
،تصویر کا کیپشن1965 جنگ کے حوالے سے شروع ہوئی تقریبات کے دوران ایک فوجی بے ہوش ہو کر گر گیا۔
،تصویر کا کیپشنایک عہدہ ایک پنشن کی مانگ کے حوالے سے جاری تحریک میں بہت سے ایسے فوجی بھی ہیں جن کی بہادری کی مثالیں نئی نسل کو دی جاتی رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمگر ان سابق فوجیوں کو لگتا ہے کہ ان کے بہادری کے تمغے حکومت کے لیے بے معنی ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہی وجہ ہے کہ 1965 کی جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نے حکومت کے دعوت نامے کو ٹھکرا دیا اور اس جنگ کی فتح کے پچاس سال پر منعقد سرکاری پروگرام میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔
،تصویر کا کیپشن73 سالہ منہدر سنگھ اس موقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ رہے ہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کی دی جانے والی پینشن میں گزارا کرنا مشکل ہے۔