کاغان میں بڑھتی ہوئی بھیڑ بھاڑ اور آلودگی کی وجہ سے وہاں کی طلسماتی جھیلوں کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوادیِ کاغان کے مشہور سیاحتی مرکز ناران کے قریب واقع طلسماتی جھیل سیف الملوک کی رونقیں سیاحوں کی بےپناہ بھیڑ بھاڑ اور اداروں کی بےحسی کی وجہ سے ماند پڑ گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجھیل کے ساحل پر کچی آبادی کی طرز پر ایک پورا بازار وجود میں آ چکا ہے جس میں بغیر کسی روک ٹوک کے سیاحوں کو مہنگے داموں چیزیں فروخت کی جاتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنگرمیوں کے موسم میں جھیل کے کنارے کھوے سے کھوا چھلنے کا وہ منظر دکھائی دیتا ہے جس سے گنجان آباد شہروں کے تنگ بازاروں سے بھاگ کر آنے والے لوگوں کو یہاں بھی راہِ فرار نہیں ملتی۔
،تصویر کا کیپشنیہاں سینکڑوں جیپوں کا اڈا قائم ہے جس کے ڈرائیوروں نے سڑک پر مکمل اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔
،تصویر کا کیپشنناران سے جھیل تک کے نو کلومیٹر کے جیب ڈرائیور دو ہزار روپے لیتے ہیں۔ وہ سڑک پکی بھی نہیں ہونے دیتے تاکہ عام گاڑیاں یہاں نہ آ سکیں۔
،تصویر کا کیپشنجھیل کے دہانے پر واقع پل کو پار کرنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہر طرف لوگ ایک دوسرے کی تصاویر اور اپنی سیلفیاں لیتے نظر آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ نادر شاہ کی فوجوں کی حملہ نہیں، بلکہ جھیل کے گرداگرد چکر لگانے کے شوقین افراد کا لشکر ہے۔
،تصویر کا کیپشنناران سے 48 کلومیٹر دور واقع وادیِ کاغان کی سب سے بڑی جھیل لولوسر کا بھی تقریباً یہی حال ہے۔
،تصویر کا کیپشنلولوسر کے ساحل پر پکوڑوں اور سموسوں کی عارضی دکانیں اس جھیل کے قدرتی حسن پر بدنما داغ کا درجہ رکھتی ہیں۔