چین دھماکوں سے لرز اٹھا

چین کے شمالی ساحلی شہر تیانجن میں دھماکوں کی تصاویر

چین کے شمالی ساحلی شہر تیانجن میں ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 44 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچین کے شمالی ساحلی شہر تیانجن میں ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 44 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
دھماکے بندرگاہ کے قریب ایک گودام میں ہوئے جہاں ’آتش گیر مادہ اور دیگر مہلک اشیا‘ رکھی ہوئی تھیں۔
،تصویر کا کیپشندھماکے بندرگاہ کے قریب ایک گودام میں ہوئے جہاں ’آتش گیر مادہ اور دیگر مہلک اشیا‘ رکھی ہوئی تھیں۔
دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنی گئی۔
،تصویر کا کیپشندھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنی گئی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی تصاویر میں آسمان پر شعلے بلند ہوتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ دھماکے سے قریبی عمارتین منہدم ہو گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی تصاویر میں آسمان پر شعلے بلند ہوتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ دھماکے سے قریبی عمارتین منہدم ہو گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق دھماکوں میں 400 سے زائد فراد زخمی ہوئے ہیں اور شہر کے ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق دھماکوں میں 400 سے زائد فراد زخمی ہوئے ہیں اور شہر کے ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ کے جنوب مشرق میں تیانجن شہر کا شمار اہم صنعتی اور تجارتی بندرگاہوں میں ہوتا ہے اور شہر میں 75 لاکھ افراد مقیم ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچین کے دارالحکومت بیجنگ کے جنوب مشرق میں تیانجن شہر کا شمار اہم صنعتی اور تجارتی بندرگاہوں میں ہوتا ہے اور شہر میں 75 لاکھ افراد مقیم ہیں۔
پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات 11:30 پر ہوا اور اُس کے تقریباً 30 سکینڈ کےبعد دوسرا دھماکہ ہوا۔
،تصویر کا کیپشنپہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات 11:30 پر ہوا اور اُس کے تقریباً 30 سکینڈ کےبعد دوسرا دھماکہ ہوا۔
چین کے سرکاری ٹی وی کے مطابق دھماکے میں 400 سے زائد افراد زخمی ہیں جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک ہے۔
،تصویر کا کیپشنچین کے سرکاری ٹی وی کے مطابق دھماکے میں 400 سے زائد افراد زخمی ہیں جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک ہے۔
سرکاری ٹی وی پر دکھائے گئے مناظر میں دھماکے کے بعد نزدیکی عمارتوں کی بجلی بند ہو گئی ہے۔ چین کے سرکاری ریڈیو کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کی قریب کی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسرکاری ٹی وی پر دکھائے گئے مناظر میں دھماکے کے بعد نزدیکی عمارتوں کی بجلی بند ہو گئی ہے۔ چین کے سرکاری ریڈیو کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کی قریب کی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔
چین کے زلزلے کے مرکز کا کہنا ہے کہ پہلے دھماکے کی شدت تین ٹن بارودی مواد کے پھٹنے کے برابر تھی۔
،تصویر کا کیپشنچین کے زلزلے کے مرکز کا کہنا ہے کہ پہلے دھماکے کی شدت تین ٹن بارودی مواد کے پھٹنے کے برابر تھی۔