پرانے کراچی کی مخدوش عمارتیں

سرکاری طور پر مخدوش قرار دی قدیم عمارتیں مسماری کی منتظر

کراچی کے علاقے سلاوٹ محلہ میں یہ تین منزلہ عمارت پچھلے تین برس قبل سرکاری طور پر مخدوش قرار دی گئی مگر اب تک مسمار نہیں کی گئی جس سے آس پاس کی عمارتوں کے مکین خوف کا شکار ہیں۔ (تحریر و تصاویر: احمد رضا، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی)
،تصویر کا کیپشنکراچی کے علاقے سلاوٹ محلہ میں یہ تین منزلہ عمارت پچھلے تین برس قبل سرکاری طور پر مخدوش قرار دی گئی مگر اب تک مسمار نہیں کی گئی جس سے آس پاس کی عمارتوں کے مکین خوف کا شکار ہیں۔ (تحریر و تصاویر: احمد رضا، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی)
عمارت کے مرکزی دروازے کے ساتھ دیوار پر سرکاری حکام نے نوٹس چسپاں کرکے لوگوں کو اس میں داخل ہونے، رہنے اور قریب جانے سے منع کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنعمارت کے مرکزی دروازے کے ساتھ دیوار پر سرکاری حکام نے نوٹس چسپاں کرکے لوگوں کو اس میں داخل ہونے، رہنے اور قریب جانے سے منع کیا گیا ہے۔
عمارت کے اندر چار سرکاری سکول تھے، عمارت کے خطرناک قرار پانے کے بعد تمام کلاس رومز توڑ دیے گئے ہیں مگر علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سکولوں کو آج تک منتقل نہیں کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنعمارت کے اندر چار سرکاری سکول تھے، عمارت کے خطرناک قرار پانے کے بعد تمام کلاس رومز توڑ دیے گئے ہیں مگر علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سکولوں کو آج تک منتقل نہیں کیا گیا ہے۔
عمارت کی دوسری منزل پر ایک ٹوٹے ہوئے کمرہ جماعت کے بلیک بورڈ پر چاک سے تنبیہی عبارت درج ہے مگر اسی دیوار کے عقب میں قائم کمروں میں سکول بدستور قائم ہیں۔
،تصویر کا کیپشنعمارت کی دوسری منزل پر ایک ٹوٹے ہوئے کمرہ جماعت کے بلیک بورڈ پر چاک سے تنبیہی عبارت درج ہے مگر اسی دیوار کے عقب میں قائم کمروں میں سکول بدستور قائم ہیں۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ عمارت کے ایک حصے میں چار کمروں میں چار سکول بدستور قائم ہیں جن میں پرائمری اور سیکنڈری سکول شامل ہیں جن میں اساتذہ کی تعداد طلبہ سے زیادہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنعلاقہ مکینوں نے بتایا کہ عمارت کے ایک حصے میں چار کمروں میں چار سکول بدستور قائم ہیں جن میں پرائمری اور سیکنڈری سکول شامل ہیں جن میں اساتذہ کی تعداد طلبہ سے زیادہ ہے۔
سکول کی انتظامیہ نے زینوں کے حصوں پر دیواریں کھڑی کرکے ایک ایک کمروں کے سکول بنا رکھے ہیں جہاں فی الوقت گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے تدریسی عمل بند ہے۔
،تصویر کا کیپشنسکول کی انتظامیہ نے زینوں کے حصوں پر دیواریں کھڑی کرکے ایک ایک کمروں کے سکول بنا رکھے ہیں جہاں فی الوقت گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے تدریسی عمل بند ہے۔
علاقے میں تنگ اور چھوٹے مکانات کی وجہ سے گرمی میں لوگ زیادہ تر گلیوں میں تخت اور چارپائیوں پر بیٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مخدوش عمارت کی وجہ سے مسلسل خوف کا شکار رہتے ہیں۔علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ مخدوش عمارت جھڑ رہی ہے اور اس سے اکثر پتھر نیچے آکے گرتے ہیں جس سے لوگوں کے زخمی ہونے کا خطرہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنعلاقے میں تنگ اور چھوٹے مکانات کی وجہ سے گرمی میں لوگ زیادہ تر گلیوں میں تخت اور چارپائیوں پر بیٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مخدوش عمارت کی وجہ سے مسلسل خوف کا شکار رہتے ہیں۔علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ مخدوش عمارت جھڑ رہی ہے اور اس سے اکثر پتھر نیچے آکے گرتے ہیں جس سے لوگوں کے زخمی ہونے کا خطرہ ہے۔
65 سالہ زینت مخدوش عمارت کے پڑوس میں رہتی ہیں۔ ان کے بقول عمارت پرانی طرز پر بنی ہوئی ہے اور ستونوں کی بجائے دیواروں پر ہی کھڑی ہے اور کسی بھی وقت گرسکتی ہے جس سے جانی و مالی نقصان ہوسکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن65 سالہ زینت مخدوش عمارت کے پڑوس میں رہتی ہیں۔ ان کے بقول عمارت پرانی طرز پر بنی ہوئی ہے اور ستونوں کی بجائے دیواروں پر ہی کھڑی ہے اور کسی بھی وقت گرسکتی ہے جس سے جانی و مالی نقصان ہوسکتا ہے۔
سلاوٹ محلے کی ایک اور عمارت جسے مخدوش قرار دیا گیا ہے مگر گرایا نہیں گیا۔
،تصویر کا کیپشنسلاوٹ محلے کی ایک اور عمارت جسے مخدوش قرار دیا گیا ہے مگر گرایا نہیں گیا۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے حالیہ بارشوں کے بعد کراچی شہر کی 288 عمارتوں کو خطرناک قرار دے کر مکینوں سے انہیں فوری خالی کرنے کا کہا ہے مگر ان میں ایسی کئی عمارتیں ہیں جو کئی برسوں سے خالی ہیں مگر انہیں گرایا نہیں جاتا۔
،تصویر کا کیپشنسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے حالیہ بارشوں کے بعد کراچی شہر کی 288 عمارتوں کو خطرناک قرار دے کر مکینوں سے انہیں فوری خالی کرنے کا کہا ہے مگر ان میں ایسی کئی عمارتیں ہیں جو کئی برسوں سے خالی ہیں مگر انہیں گرایا نہیں جاتا۔
سلاوٹ محلے کی ہی یہ عمارت حاجی محمد علی منزل چار منزلہ عمارت ہے جو خطرناک قرار دیے جانے کے باعث کئی برسوں سے خالی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسلاوٹ محلے کی ہی یہ عمارت حاجی محمد علی منزل چار منزلہ عمارت ہے جو خطرناک قرار دیے جانے کے باعث کئی برسوں سے خالی ہے۔
خطرناک قرار دی گئی زیادہ عمارتیں پرانے کراچی میں واقع ہیں جو کاروباری سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے۔
،تصویر کا کیپشنخطرناک قرار دی گئی زیادہ عمارتیں پرانے کراچی میں واقع ہیں جو کاروباری سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے۔