،تصویر کا کیپشنعطارد کی اس تصویر میں سیارے کی سطح پر کیمیائی، معدنی اور طبیعاتی تنوع دیکھا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنزہرہ کے یہ تصویر مگیلن مدار سے 1990 کی دہائی میں حاصل کی گئی تصاویر کمپیوٹر کی مدد سے تیار کی گئی ہے، جس میں سویت ونیرا 13 اور 14 کی مدد سے حاصل ہونے والی معلومات سے رنگ شامل کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن11 جولائی 1969 کو اپالو کے عملے نے زمین کو خلا سے کچھ اس انداز میں دیکھا۔
،تصویر کا کیپشنمریخ کی سطح پر ویلس مارنرس نامی وسیع کھائیوں کی یہ تصویر وائیکنگ آربٹر سے لی گئی۔
،تصویر کا کیپشنسب سے بڑے سیارے مشتری کی یہ تصویر ہبل کے وائیڈ فیلڈ کیمرہ تھری کی مدد سے بنائی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشندو تصاویر کو ملا کر بنائی گئی زحل کی یہ تصویر اس سیارے کا وسیع منظر پیش کر رہی ہے۔ یہ تصویر سنہ 2015 میں کاسینی خلائی جہاز نے بنائی تھی۔
،تصویر کا کیپشنناسا کا خلائی جہاز ووئے گر 2، جنوری 1986 کو ساتویں سیارے یورینس کے قریب سے گزرا۔
،تصویر کا کیپشنووئے گر 2 کے کیمرے سے نیپچون کا منظر۔ یہ تصویر 44 لاکھ میل کے فاصلے سے بنائی گئی اور اس میں اس بڑے سیاہ دھبے اور اس کے ساتھ روشن حصے کو دیکھا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشننیو ہوریزونز خلائی جہاز سے لی گئی پلوٹو کی واضح تصویر۔ تازہ ترین ڈیٹا کی مدد سے پلوٹو کے حجم کے بارے میں درست معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ متوقع سائز سے تھوڑا بڑا ہے، گذشتہ اندازوں کے مقابلے میں تقریباً 80 کلومیٹر زیادہ چوڑا ہے، جس کا مطلب اس کا سائز ہمارے چاند کے دو تہائی کے برابر ہے۔ سنہ 2006 میں انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین (آئی اے یو) کی جانب سے پلوٹو سے مکمل ’سیارے‘ کا درجہ واپس لے لیا گیا تھا۔