سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدید لہر کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 470 سے تجاوز کر گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں تین دن کے دوران گرمی کی شدت سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 470 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق سرد خانے میں 350 کے قریب لاشیں لائی گئی تھیں جن میں 45 شناخت نہ ہونے کی وجہ سے دفنا دی گئی تھیں، جبکہ باقی لاشیں لواحقین اپنے ساتھ لائے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنریکارڈ کے مطابق کراچی میں سب سے زیادہ درجۂ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ سنہ 1979 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنمحکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات کراچی شہر میں ہوئی ہیں جہاں حالیہ دنوں میں درجۂ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا۔
،تصویر کا کیپشنکراچی کے علاقوں ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی اور لانڈھی کے بعض علاقوں میں ہلکی بارش ہوئی ہے، جس سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہے لیکن حبس کی شدت بڑھ گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسندھ اسمبلی کے اجلاس میں کے الیکٹرک کارپوریشن کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
،تصویر کا کیپشنصوبائی وزیر توانائی اور خزانہ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہر میں 1350 فیڈر ہیں جن میں سے صرف 100 کی معمول کی دیکھ بھال کی گئی تھی جس وجہ سے اس قدر فیڈرز کی شدید ٹرپنگ ہوئی ہے اور حالات خراب ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن’ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کے الیکٹرک کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ لوڈ شیڈنگ کا اتنا مسئلہ نہیں تھا کیونکہ طلب 3100 میگا واٹ تھی جبکہ 2600 ان کے پاس موجود تھی۔ مسئلہ یہ ہوا تھا کہ فیڈر ٹرپ کر گئے اور مرمت کے لیے عملہ موجود نہیں تھا۔‘
،تصویر کا کیپشنایدھی کے ترجمان انور کاظمی کا کہنا ہے کہ تین روز میں لائی گئی میتوں میں زیادہ تر عمر رسیدہ لوگوں، بچوں اور نشے کے عادی لوگوں کی میتیں شامل ہیں جن کے سر پر کوئی سایہ نہیں ہوتا۔
،تصویر کا کیپشنشدید گرمی کے ساتھ ساتھ شہر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبعض علاقوں میں پانی کی سبیلیں بھی لگائی گئی ہیں اور عوام کو گرمی سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے۔
،تصویر کا کیپشن اندرون سندھ جیکب آباد اور شکارپور میں تین تین، جبکہ لاڑکانہ میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔