کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں

کراچی میں گذشتہ دو دنوں میں گرمی اور لو لگنے سے کم سے کم 110 افراد ہلاک ہو گئے۔

 پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور گذشتہ دو دنوں میں گرمی اور لو لگنے سے کم سے کم 110 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عمر رسیدہ افراد کی ہے۔
،تصویر کا کیپشن پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور گذشتہ دو دنوں میں گرمی اور لو لگنے سے کم سے کم 110 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عمر رسیدہ افراد کی ہے۔
صوبائی سیکریٹری صحت سعید منگنیجو کے مطابق جناح ہسپتال میں 75، لیاری جنرل ہسپتال میں نو، سول ہسپتال میں دو اور عباسی شہید ہسپتال میں 24 افراد جاں بحق ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنصوبائی سیکریٹری صحت سعید منگنیجو کے مطابق جناح ہسپتال میں 75، لیاری جنرل ہسپتال میں نو، سول ہسپتال میں دو اور عباسی شہید ہسپتال میں 24 افراد جاں بحق ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنان کا کہنا تھا کہ شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ساحلی شہر گذشتہ 24 گھنٹوں سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ سنیچر کو درجۂ حرارت 44 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنساحلی شہر گذشتہ 24 گھنٹوں سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ سنیچر کو درجۂ حرارت 44 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
 ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار انور کاظمی کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر ہلاک ہونے والے لوگوں کی میتیں بھی بڑی تعداد میں سرد خانے لائی گئی ہیں کیونکہ لواحقین کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں سخت گرمی کی وجہ سے میتیں خراب نہ ہو جائیں۔
،تصویر کا کیپشن ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار انور کاظمی کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر ہلاک ہونے والے لوگوں کی میتیں بھی بڑی تعداد میں سرد خانے لائی گئی ہیں کیونکہ لواحقین کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں سخت گرمی کی وجہ سے میتیں خراب نہ ہو جائیں۔
شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہپستال جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کو دس دس افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا، جبکہ چار کی موت شعبۂ حادثات میں ہوئی۔
،تصویر کا کیپشنشہر کے سب سے بڑے سرکاری ہپستال جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کو دس دس افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا، جبکہ چار کی موت شعبۂ حادثات میں ہوئی۔
ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عمر رسیدہ افراد کی ہے جن کو تیز بخار اور الٹی کی شکایت تھی جبکہ گرمی کے باعث پہلے سے بیمار افراد کی بھی طبیعت بگڑ گئی۔
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عمر رسیدہ افراد کی ہے جن کو تیز بخار اور الٹی کی شکایت تھی جبکہ گرمی کے باعث پہلے سے بیمار افراد کی بھی طبیعت بگڑ گئی۔
کراچی میں جون سنہ 1979 میں ریکارڈ 47 سینٹی گریڈ گرمی پڑی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بحیرۂ عرب میں لو ڈپریشن یا کم دباؤ کی وجہ سے معمول کی ہوا میں کمی ہوئی تھی جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا۔
،تصویر کا کیپشنکراچی میں جون سنہ 1979 میں ریکارڈ 47 سینٹی گریڈ گرمی پڑی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بحیرۂ عرب میں لو ڈپریشن یا کم دباؤ کی وجہ سے معمول کی ہوا میں کمی ہوئی تھی جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا۔