تاج کو بدرنگ ہونے سے بچانے کے لیے آگرہ کی مشہور مٹھائی پیٹھا بنانے والی آگ کی بھٹیوں پر پابندی۔
،تصویر کا کیپشنانسانی تخلیق کے عظیم شاہکار تاج محل کو ہر برس ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں سیاح دیکھنے کے لیے آگرہ آتے ہیں۔( تصاویر و تحریر: شکیل اختر، بی بی سی، دہلی)
،تصویر کا کیپشنلیکن کثافت اور فضائی آلودگی سے سنگ مر مر کا بنا ہوا تاج محل اب پیلا پڑ رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتاج کو بدرنگ ہونے سے بچانے کے لیے آگرہ میں جنریٹروں پر پابندی عائد ہے۔ کارخانے منتقل کر دیے گئے ہیں اور موٹر گاڑيوں کی آمد ورفت کے لیے ضابطے بنائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ آگ کی راکھ پر قابو پانے کے لیے حال میں آگرہ کی مشہور مٹھائی پیٹھا بنانے والی بھٹیوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپیٹھا آگ کی بھٹی پر پکنے سے لے کر پانی میں ٹھنڈا ہونے اور شیرے میں ڈوبنے تک کئی مرحلوں سے گزرتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنروایتی پیٹھا ہلکا پیلا یا سمندر کے پانی کے رنگ کا ہوتا ہے اور آگرہ میں یہ بڑے پیمانے پر تیار کیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنوقت کے ساتھ پیٹھے کی شکل و صورت بھی بدل گئی ہے اور اب یہ کئی رنگوں اور ذائقوں میں ملتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمقامی انتظامیہ نے کوئلے کی بھٹیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ گیس سے پیٹھا بنانے پر دوگنی لاگت آتی ہے بہت سے کارخانے بند ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمقامی انتظامیہ آثار قدمیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ آگ سے اٹھنے والی راکھ تاج محل کے لیے کافی نقصان دہ ہے۔ اس لیے یہ قدم ضروری ہے۔