دنیا بھر سے آئے ہوئے باغبانی کے ماہرین کے ڈیزائنوں کی نمائش
،تصویر کا کیپشنلندن کے علاقے چیلسی میں جاری پھولوں کے میلے میں دنیا بھر سے آئے ہوئے باغبانی کے ماہر اپنے ڈیزائنوں کی نمائش کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق پانچ دن تک جاری رہنے والے چیلسی فلاور شو کو دیکھنے کے لیے ایک لاکھ 65 ہزار افراد آئیں گے۔
،تصویر کا کیپشناس شو کا آغاز سنہ 1804 میں ہوا تھا اور یہ رائل چیلسی ہسپتال میں منعقد ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنفلاور شو کے آغاز سے قبل دنیا بھر کے نامور باغبان تیاری میں دن رات ایک کر دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپیر کو مہمانانِ خصوصی کو جو باغیچے دکھائے گئے ان میں سے ایک شہزادہ ہیری کی جانب سے قائم کردہ خیراتی ادارے کے لیے بھی بنایا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشناس باغیچے کو ’مشکل میں امید‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں لیسوتھو سے آئے ہوئے گلوکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنچیلسی فلاور شو میں 11 ایکڑ رقبے پر مختلف باغیچے لگائے گئے ہیں جبکہ اس کے مرکزی پویلین میں سو سے زیادہ نرسریاں اور پھولوں کی نمائشوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشناس میلے میں پھول اور پودے اپنے جوبن پر دکھائی دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنگرینڈ پویلین کے باہر شائقین کو جدید ڈیزائن کے باغیچے دیکھنے کا بھی موقع ملے گا۔
،تصویر کا کیپشناس سال میلے میں 15 بڑے باغیچے بھی بنائے گئے ہیں اور دنیا کے مشہور باغبانوں نے ان کی تیاری میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنڈیرن ہاکس نے سلیٹ کے 40 ہزار ٹکڑوں کی مدد سے اپنے باغیچے کی راہ گزر تیار کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنچھوٹے باغیچے بھی اس فلاور شو کا حصہ ہیں جو کہ طلائی تمغے کے حصول کے لیے مقابلہ کریں گے۔
،تصویر کا کیپشنآر ایچ ایس کے مشیر لیہ ہنٹ کا کہنا ہے کہ تمام باغیچے اہم ہیں کیونکہ یہ سب جنگلی حیات کی پناہ گاہ ہیں، شہروں کو گرمیوں میں ٹھنڈا رکھتے ہیں اور سردیوں میں سردی سے محفوظ رکھتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآر ایچ ایس چیلسی فلاور شو کے بارے میں مزید معلومات اس شو کی ویب سائٹ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔