’ریگستان کےوینس‘ کو شدت پسندوں سے خطرہ

پالمیرا کے قدیم شہر کے ارد گرد دولت اسلامیہ کے جنگجو اور شامی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر رہی ہیں۔

پالمیرا کے قدیم شہر کے ارد گرد دولت اسلامیہ کے جنگجو اور شامی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپالمیرا کے قدیم شہر کے ارد گرد دولت اسلامیہ کے جنگجو اور شامی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
ریگستان کا وینس کہلانے والا یہ تاریخی شہر اب شدید خطرے میں ہے۔
اس کی ممکنہ تباہی سے عالمی ثقافتی ورثے کو کتنا نقصان پہنچے گا، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
،تصویر کا کیپشنریگستان کا وینس کہلانے والا یہ تاریخی شہر اب شدید خطرے میں ہے۔ اس کی ممکنہ تباہی سے عالمی ثقافتی ورثے کو کتنا نقصان پہنچے گا، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں تدمر کا اہم کردار رہا ہے۔ پالمیرا روم کے شہنشاہیت کے دور میں ایک نمایاں شہر تھا۔
،تصویر کا کیپشنمشرق وسطیٰ کی تاریخ میں تدمر کا اہم کردار رہا ہے۔ پالمیرا روم کے شہنشاہیت کے دور میں ایک نمایاں شہر تھا۔
آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدیم دور کا ایک بے مثال شہر تھا اور یہاں کے شہری اپنی خاص شناخت پر فخر کرتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنآثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدیم دور کا ایک بے مثال شہر تھا اور یہاں کے شہری اپنی خاص شناخت پر فخر کرتے تھے۔
اب بھی ان کھنڈرات میں بہت خزانے موجود ہیں اور اس کے کئی راز پوشیدہ ہیں۔
،تصویر کا کیپشناب بھی ان کھنڈرات میں بہت خزانے موجود ہیں اور اس کے کئی راز پوشیدہ ہیں۔
عیسائی کلینڈر کی تیسری صدی تک شہر کے باشندے روم کے شہنشاہ کی مزاحمت کرتے رہے اور اپنے رقبے میں بھی اضافہ کیا جو ترکی سے مصر تک پھیلا ہوا تھا۔
،تصویر کا کیپشنعیسائی کلینڈر کی تیسری صدی تک شہر کے باشندے روم کے شہنشاہ کی مزاحمت کرتے رہے اور اپنے رقبے میں بھی اضافہ کیا جو ترکی سے مصر تک پھیلا ہوا تھا۔
پالمیرا مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک بہت بڑی کامیابی تھی اور یہ شہر ہر لحاظ سے منفرد تھا۔
،تصویر کا کیپشنپالمیرا مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک بہت بڑی کامیابی تھی اور یہ شہر ہر لحاظ سے منفرد تھا۔
اس قدیم دور میں ایسے شہر کا کنٹرول اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہوتا تھا لیکن پامیرا کی حفاظت کی ذمہ داری سودا گر طبقے کے پاس تھی۔
،تصویر کا کیپشناس قدیم دور میں ایسے شہر کا کنٹرول اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہوتا تھا لیکن پامیرا کی حفاظت کی ذمہ داری سودا گر طبقے کے پاس تھی۔
اگر یہ قدیم شہر دولت اسلامیہ کے ہاتھوں میں آگیا تو ہزاروں سال سے محفوظ یہ ثقافتی ورثہ ہمیشہ کے لیے تباہ ہو سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناگر یہ قدیم شہر دولت اسلامیہ کے ہاتھوں میں آگیا تو ہزاروں سال سے محفوظ یہ ثقافتی ورثہ ہمیشہ کے لیے تباہ ہو سکتا ہے۔