مغربی منگولیا کے برف پوش پہاڑوں میں گڈریوں کے ساتھ ایک سفر کی تصویری کہانی
،تصویر کا کیپشنشاہینوں کے ساتھ شکار کے لیے مشہور مغربی منگولیا کے قزاخ خانہ بدوشوں کی زندگی گزارتے ہیں اور اپنے مویشیوں کے ریوڑوں کے ساتھ ساتھ سفر میں رہتے ہیں۔ہر سال فروری اور اپریل کے درمیانی دنوں میں ان خانہ بدوشوں کے تقریباً دو ہزار گھرانے کوہِ التائی کے پہاڑی سلسلے میں 150 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں جس میں انھیں پانچ دن لگ جاتے ہیں۔ (تمام تصاویر کے جملہ حقوق ٹموتھی ایلن کے نام محفوظ ہیں)
،تصویر کا کیپشنیہ شوہان نامی ایک خانہ بدوش کا موسم ِ سرما کا مسکن ہے۔ یہاں سے اپنے موسمِ بہار کے ٹھکانے تک جانے کے لیے شوہان کے خاندان کے زیادہ تر افراد اور ان کا ساز و سامان ٹرک پر جاتا ہے، لیکن ان کے مویشی نئی چراہ گاہوں کی تلاش میں پہاڑوں پر چل کر وہاں پہنچتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنموسم سرما کے مسکن کو چھوڑنے سے پہلے آخری رات کا کھانا شوہان کا خاندان اکھٹے کھاتا ہے۔ٹموتھی ایلن کے بقول یہ کھانا گوشت اور چائے پر مبنی ہوتا ہے اور اس کے ساتھ روسی شراب ووڈکا کی چند بوتلیں بھی کھلتی ہیں اور شرکا ایک دوسرے کے لیے اچھی صحت اور محفوظ سفر کی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنموسمِ سرما کے عارضی گھر سے روانگی کے بعد اور پہاڑی راستوں میں گم ہونے سے پہلے تمام مویشی اوولانہس نامی گاؤں سے گزرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشوہان مویشیوں کے ساتھ اس طویل سفر پر اپنے کزن، پڑوسی اور ان کے کتوں کے ساتھ نکلتے ہیں۔ یہ تینوں تقریباً پانچ سو مویشیوں کا ریوڑ ساتھ لیے ہوتے ہیں جن میں گھوڑے، پہاڑی بیل، اونٹ، کشمیری بکریاں، بھیڑیں اور گائیں شامل ہوتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسالانہ ہجرت کے اس راستے کے نشیبی علاقوں میں، جہاں برف نہیں ہوتی، وہاں تیز ہواؤں کو گرد آلود آندھی میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی۔ آندھی آتے ہی خانہ بدوشوں کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ جلدی جلدی تمام مویشیوں کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور آندھی کے تھمنے کا انتظار کریں۔
،تصویر کا کیپشناس راستے میں گاہے بگاہے آپ کو ایسی جھونپڑیاں ملتی ہیں جہاں یہ گڈریے قیام کرتے ہیں۔ منگولیا کی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ جھونپڑیاں اونچے پہاڑوں کے درمیان درّوں میں بنائی گئی ہیں جہاں اکثر خراب موسم کی وجہ سے گڈریے پناہ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشوہان کا گولڈن ایگل یا ’سنہری شہباز‘ یہ طویل سفر اونٹ کی پیٹھ پر کرتا ہے۔سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے اس پرندے کو کپڑے میں لپیٹ کر اور ٹوپی پہنا کر رکھا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنجوں جوں مویشی پہاڑوں پر چڑھتے ہیں، موسم شدید تر ہوتا جاتا ہے۔ منگولیا میں گذشتہ موسم سرما غیر معمولی طور پر خشک رہا اور اکثر مقامات پر بمشکل ہی برف دیکھنے میں آئی۔
،تصویر کا کیپشنشوہان اپنے ریوڑ کے ساتھ اس سفر کا آغاز عموماً فروری میں اس وقت کرتے ہیں جب بھیڑوں نے ابھی بچے نہیں دیے ہوتے۔ اگرچہ مارچ اور اپریل کے مقابلے میں فروری میں سفر کرنا زیادہ کھٹن ہوتا ہے لیکن شوہان کا خیال ہے کہ فروری میں سفر پر نکنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ان دنوں میں حاملہ بھیڑوں کے مرنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنگڈریوں کے اونٹوں پر ہمیشہ ٹھنڈا یا منجمد گوشت اور ایک چولہا بھی لادا جاتا ہے تاکہ شام کو گرما گرم کھانا کھایا جا سکے۔کچھ گوشت بچا کے رکھا جاتا ہے جسے اگلے دن سفر کے دوران روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ خاندہ بدوشوں کی خوراک میں گوشت اور دودھ، دہی اور پنیر کا بڑا حصہ شامل ہوتا ہے۔ مغربی منگولیا میں سبزیاں بہت کم ہی اگتی ہیں اور درآمد کی جانے والی سبزیاں بھی شدید سردی میں منجمد ہو جاتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنراستے میں قائم چھوٹی چھوٹی جھونپڑیاں بہت جلد ہی لوگوں سے بھر جاتی ہیں۔ یہاں سونے کے لیے گڈریے جانوروں کی کھالیں اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنراستے میں جب دریا اور ندیاں آتی ہیں تو جانور ان کی منجمد سطح پر پاؤں رکھنے سے گھبراتے ہیں، اس لیے گڈریے برف پر مٹی ڈال کر جانوروں کے لیے رستہ بنا دیتے ہیں۔ سب سے پہلے ایک چھوٹے جانور کو گھسیٹ کر دریا کے پار لیجایا جاتا ہے جسے دیکھ کر اس کی ماں بھی پیچھے آ جاتی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا ریوڑ ندی کے پار پہنچ جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناسی طرح سردیوں میں جھیل جم کر برف بن چکی ہوتی ہیں۔ چونکہ جانور جمی ہوئی برف سے ڈرتے ہیں اس لیے انھیں دھوکہ دینے کے لیے جھیل کی سطح پر تازہ برف سے رستہ بنا دیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناگرچہ پہاڑی بیل برفانی طوفان کا مقابلہ کرنے سے نہیں گھبراتے، لیکن گڈریوں کو بہرحال اس خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ کہیں سفید طوفانی ہواؤں میں جانور رستہ نہ بھول جائیں۔ ایسے طوفانوں میں آپ کو واقعی کچھ دکھائی نہیں دیتا اور ایسے میں جانوروں کا بھٹک جانا کوئی انہونی بات نہیں ہوتی۔
،تصویر کا کیپشنیہ شوہان ہیں جو منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ کی ایک رات بسر کر کے جاگے ہیں۔ ہر روز شوہان اپنے سفر کا آغاز پو پھوٹتے ہی کر دیتے ہیں اور اُس وقت درجۂ حرارت بہت کم ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنشدید سردی میں زندہ رہنے کے لیے جو کچھ بھی چاہیے ہوتا ہے، وہ ان اونٹوں پر لادا ہوا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ گڈریے صرف اسی صورت میں قیام کرتے ہیں جب وہ موسم سے واقعی مجبور ہو جاتے ہیں یا آگے کا راستہ بہت مصروف ہو جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپڑوسی خاندان عموماً اکھٹے ہی سفر کرتے ہیں، لیکن اگر مختلف ریوڑ آپس میں گڈ مڈ ہو جائیں تو انھیں بڑی مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ جانوروں کی شناخت کر کے انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا آسان نہیں ہوتا اور اس میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنموسمی حالات سے باخبر رہنے کے لیے یہ گڈریے ’لانگ ویوو‘ فریکونسی والے ریڈیو اپنے پاس رکھتے ہیں۔ اگر موسم زیادہ خراب ہو جائے تو یہ لوگ کسی طویل پہاڑی درّے میں داخل نہیں ہوتے بلکہ باہر ہی رک کر موسم بہتر ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپانچ دن کے سفر کے بعد اپنی اہلیہ پرما سے شوہان کی ملاقات مغربی منگولیا کے ’توان بوگڈ نیشنل پارک‘ میں ہوئی جہاں ان کا موسم بہار کا مسکن واقع ہے۔ شوہان اور پرما کا خاندان سال میں چھ مرتبہ ہجرت کرتا ہے اور اس دوران وہ موسمِ سرما کے تین گھروں اور سوسم گرما کے کئی کیمپوں میں زندگی گزارتا ہے۔(جملہ حقوق ٹموتھی ایلن کے نام محفوظ ہیں: www.humanplanet.com