امریکی خلائی ادارے ناسا نے دنیا کے مختلف مقامات کی پرانی اور نئی تصاویر سے تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنامریکی خلائی ادارے ناسا نے دنیا میں گلیشیئر، غائب ہوتی جھیلوں کو دکھایا ہے۔ تصاویر کی مدد سے دنیا کے مختلف مقامات کی پرانی اور موجودہ صورتحال کو دکھایا گیا ہے۔ پیرو کے جنوبی پہاڑی سلسلے میں واقع کوری کالس گلیشیئر 1978 میں پھیل رہا تھا تاہم 2011 میں یہ 86 ایکٹر کی ایک جھیل میں تبدیل ہو گیا۔
،تصویر کا کیپشنناسا نے سٹیلائیٹ کی مدد سے موسمی تبدیلیوں کی مثالیں پیش کی ہیں۔ دنیا بھر میں شہری آبادی میں اضافے اور قدرت کو درپیش خطرات کی وجہ سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ چلی دنیا میں تانبے کی کھپت کا ایک تہائی پیدا کرتا ہے۔ چلی کی ایسکونڈیڈا کان سے سالانہ دس لاکھ ٹن تانبا نکالا جاتا ہے۔ یہاں کان کنی کی وجہ سے موسمی اثرات صحرائے ایٹاکاما میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ سنہ 1975 میں یہاں کان کنی شروع ہونے سے پہلے کی تصویر اور اس کے بعد 2008 کی تصویر سے حالات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دریائے دشت پر میرانی ڈیم سال 2006 میں مکمل ہوا۔ اس آبی ذخیرے کو بجلی، پینے کا پانی اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔بائیں تصویر میں خطے کو اس ڈیم کی تعمیر سے پہلے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ سال 2011 میں دائیں تصویر سے یہاں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپیراگوئے کے مغربی علاقوں میں بارشوں کے موسم میں وسیع میدانوں میں ہریالی نظر آتی ہے جبکہ بارشیں نہ ہونے سے صحرا کا منظر پیش کرتے ہیں۔ شکاؤ نامی یہ علاقہ بولیویا اور ارجنٹینا تک پھیلا ہوا ہے۔ اس خطے میں 1977 اور 2008 کی تصاویر کی مدد سے پیش آنے والی تبدیلیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس خطے کے مختلف علاقوں میں زراعت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبحیرہ روم کی ساحلی پٹی سے کم گہری جھیلیں غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ تیونس کی ’شکل جھیل‘ میں موسم سرما میں پانچ لاکھ پرندے آتے ہیں۔ یہاں پر ڈیم کی تعمیر اور سیاحت کی وجہ سے جھیل میں پانی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے۔ سال 2001 اور 2005 کی تصاویر میں اس صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن1977 اور پھر 2011 کی ان تصاویر میں بیجنگ کی شہری آبادی میں اضافہ نظر آتا ہے۔ اس میں نیلا رنگ عمارتوں کو ظاہر کر رہا ہے جبکہ سرخ رنگ سبزے اور زرعی رقبے کو ظاہر کرتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن40 سال پہلے وسط ایشیا کی جھیل ’بحیرہ ارال ‘ کبھی کشتیوں اور ماہی گیروں سے بھری ہوتی تھی لیکن اب سب کچھ غائب ہو گیا ہے۔ 1960 کی دہائی میں ڈیموں اور نہروں کی تعمیر شروع ہونے کی وجہ سے اس میں پانی کی آمد کم ہونی شروع ہو گئی تھی اور 2014 میں خشک موسم کی وجہ سے یہ غائب ہو گئی۔
،تصویر کا کیپشنلاس ویگاس کی یہ تصاویر 1972، 1992 اور پھر 2013 کی ہیں۔ لاس ویگاس کا شمار امریکہ میں تیزی سے پھیلنے والے شہروں میں ہوتا ہے۔ موسمی اثرات سے رونما ہونے والی مزید تبدیلیوں کو ناسا کی ویب سائٹ limate.nasa.gov/state_of_flux پر دیکھا جا سکتا ہے۔