’جرمن ونگز‘ کے طیارے میں سوار 144 مسافروں اور عملے کے چھ افراد میں سے کوئی زندہ نہیں بچا۔
،تصویر کا کیپشنفرانس میں حکام کے مطابق ایک جرمن کپمنی ’جرمن ونگز‘ کا طیارہ ملک کے جنوب میں پہاڑوں پر گر کر تباہ ہونے کے نتیجے میں اس میں سوار 144 مسافروں اور عملے کے چھ افراد میں سے کوئی زندہ نہیں بچا ہے۔
،تصویر کا کیپشنفرانس کی وزارتِ داخلہ کے مطابق طیارے کا ملبہ فرایچ ایلپس کے پہاڑوں میں 5,600 فٹ کی بلندی پر مل گیا ہے اور طیارے میں سوار عملے سمیت تمام 150 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کا بلیک باکس مل گیا ہے۔ ایک اہلکار نقشے پر اس پہاڑی مقام کی نشاندہی کر رہا جہاں پر جہاز گر کر تباہ ہوا۔
،تصویر کا کیپشنفرانس کے محکمۂ شہری ہوا بازی کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ تباہ ہونے سے آٹھ منٹ پہلے طیارے کی بلندی میں کمی ہونا شروع ہو گئی تھی، تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اس دوران طیارے کی جانب سے خطرے کا کوئی پیغام موصول ہوا تھا۔
،تصویر کا کیپشنایک فرانسیسی اہلکار کے مطابق طیارے کا ملبہ بکھرا ہوا ہے اور اس کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو کہ ٹکڑوں میں نہ ہو۔
،تصویر کا کیپشن’فرینچ ایلپس‘ کے برف پوش پہاڑوں پر دنیا بھر سے سیاح سکیئنگ کے لیے جاتے ہیں۔ ’پرا لوپ‘ کے مقام پر سیاحت کے شعبے سے منسلک ایک مقامی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آج صبح 11 بجے کے قریب انھوں نے پہاڑوں سے ایک عجیب آواز سنی تھی۔
،تصویر کا کیپشنسرکاری اہلکاروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ حادثے سے پہلے 10 بج کر 47 منٹ پر طیارے کی جانب سے پیغام موصول ہوا تھا کہ طیارہ مشکل کا شکار ہے، تاہم بعد میں اس بیان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
،تصویر کا کیپشنلُفتھانزا کے سربراہ کاسٹن سپہورٹ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ : ہمیں معلوم نہیں کہ پرواز نمبر 4U 9525 کے ساتھ کیا ہُوا۔ میں اپنے مسافروں اور عملے کے گھر والوں اور دوستوں سے دل کی گہرائیوں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشنبدقسمت طیارے کے مسافروں میں ایک جرمن سکول کے 16 بچے بھی شامل تھے جو سپین میں کچھ دن گزارنے کے بعد واپس گھر جا رہے تھے۔ جرمن میں ان بچوں کے سکول کے باہر غمزدہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی۔
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والے زیادہ تر مسافروں کا تعلق جرمنی اور سپین سے تھا۔ایک مقامی سرکاری اہلکار گلبرٹ ساون نے ایک اخبار کو بتایا ہے کہ طیارہ مکمل تباہ ہو چکا ہے اور ’اس کا سب سے بڑا ٹکڑا ایک کار کے برابر ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنفرانسیسی اور جرمن رہنماؤں نے حادثے کی خبر پر اپنے دُکھ کا اظہار کیا ہے۔جرمن چاسلر انگیلا مرکل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت ہم سب بہت غم میں ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ وہ حادثے کے مقام پر جانے کا سوچ رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنطیارہ جرمنی کی سستی ہوائی کمپنی ’جرمن ونگز‘ کا تھا جو جرمنی کی قومی ایئر لائن ’لفتھانزا‘ کی ایک ذیلی کمپنی ہے۔ جرمن وِنگز کی یہ پرواز سپین کے شہر بارسلونا سے جرمنی کے شہر ڈوزلڈورف جا رہی تھی