ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر اور سیکریٹیریٹ سے حراست میں لیے جانے والے افراد کی پیشی
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر اور سیکریٹیریٹ میں رینجرز کے چھاپے کے دوران حراست میں لیے جانے والے افراد میں سے 26 کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 90 دن کے لیے رینجرز کی تحویل میں دے دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنبدھ کی صبح دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والے آپریشن میں رینجرز اہلکاروں نے ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر نائن زیرو اور خورشید بیگم میموریل ہال سے بڑی تعداد میں غیر قانونی اسلحہ اور سزایافتہ مجرموں اور ٹارگٹ کلرز سمیت متعدد افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنجمعرات کی سہ پہر زیرِحراست ملزمان میں سے 26 کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔رینجرز نے تحویل میں لیے جانے والے تمام افراد بشمول ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر عدالت میں پیش کیا۔
،تصویر کا کیپشنرینجرز نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی پاداش میں ایم کیو ایم کے گرفتار کیے جانے والے کارکنان کے خلاف، عزیز آباد تھانے میں مختلف دفعات کے تحت مقدمات بھی درج کروا دیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنگرفتار افراد میں صحافی ولی خان بابر کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے فیصل موٹا بھی شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والی کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئی۔
،تصویر کا کیپشنآپریشن کے بعد رینجرز کے ترجمان کرنل طاہر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو میں کارروائی میں انھیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تاہم وہاں سے سزائے موت پانے والے قیدیوں اور ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا جن کے خلاف ایف آئی آرز درج ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبیان کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد میں سے فیصل محمود عرف فیصل موٹا صحافی ولی خان بابر کے قتل کے مقدمے کا مرکزی ملزم ہے جسے سزائے موت سنائی جا چکی ہے جبکہ نادر نامی مجرم کو 13 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ زیرِحراست دیگر افراد میں فرحان شبیر، عامر اور عبید کے ٹو کی شناخت ہوئی ہے۔