ویت نام کے دارالحکومت میں ریلوے لائن سے چند انچ دور رستی بستی زندگی۔
،تصویر کا کیپشنویت نام میں چلنے والی طویل ریلوے لائن کا آغاز اس کے دارالحکومت ہنوئی سے ہوتا ہے جہاں یہ گھروں اور تجارتی مراکز سے محض چند انچ کے فاصلے سے گزتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنفوٹو گرافر پاؤلا نونیز سولوریو کو اس ریلوے ٹریک کے دونوں جانب رہنے والوں سے متاثر کیا۔
،تصویر کا کیپشنان کا زیادہ تر کام ان ان گھرانوں کے بارے میں ہے جو اس ریلوے لائن کے انتہائی قریب رہتے ہیں۔ انھوں نے ان لوگوں کی زندگیوں اور ان کے مال و اسباب کی تصاویر بنائیں۔
،تصویر کا کیپشننونیز سولوریو کہتی ہیں: ’یہ چیز میرے لیے بہت دلچسپ تھی۔ میں نے ایسی صورت حال دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھی ہے جہاں لوگ کبھی ترقی اور خوش حالی کا نشان سمجھی جانے والے ٹرین کی پٹری کے قریب رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ یہ انھیں بقا کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنہنوئی سے نکلنے کے بعد یہ ریلوے لائن کم سے کم ایک ہزار میل کا سفر کرتی ہے اور جنوب میں اپنی آخری منزل ہو چی منہ شہر پہنچتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ ریلوے لائن سنہ 1930 کی دہائی میں فرانسیسی اقتدار کے دور میں مکمل ہوئی تھی۔ اب اسے ویت نام کا سرکاری ادارہ چلاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشننونیز سولوریو کی اکثر تصاویر میں لوگ تو نہیں ہیں لیکن ان کا سامان ریلوے لائن کے گرد موجود تقریباً ہر جگہ پڑا ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنان دونوں شہروں میں تیز ترین رابطے کی تعمیر کے منصوبے وقتاً فوقتاً سامنے آتے ہیں لیکن ان پر آنے والا خرچ بہت زیادہ ہے۔ اس لیے تازہ ترین منصوبے میں حالیہ پٹری ہی کو بہتر بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ اس کے 30 گھنٹوں پر محیط سفر کے وقت کو کم کیا جا سکے۔