امریکی فوٹو گرافر بیتھمون کی 14 سال کی کاوشوں سے ایک انتخاب
،تصویر کا کیپشنامریکی فوٹوگرافر بیتھمون 14 برس تک امریکہ، یورپ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اورافریقہ میں دنیا کے قدیم ترین درختوں کی تصویریں اتارتی رہیں۔ یہ تصویر افریقہ کے ایک قدیم ’ڈریگنز بلڈ ٹری‘ یا اژدھے کے خون والے درخت کی ہے۔ اس درخت کی نشو و نما نہایت سست ہوتی ہے، اس لیے اسے تناور درخت بننے میں طویل مدت لگتی ہے۔
،تصویر کا کیپشندرخت سے رسنے والی سرخ رنگ کی گوند کی وجہ سے ہی اس درخت کو اژدھے کے خون سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ادویات اور رنگ بنانے میں سرخ گوند کے استعمال اور اس کی خوبیوں کا ذکر ہمیں قدیم یونانی اور رومی تہذیبوں میں بھی ملتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکمبوڈیا میں اینکور کا مندر تقریباً ایک ہزار برس قدیم ہے۔ اس درخت کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے قدرت نے بھی مندر کے نیچے دفن قدیم انسانی تہذیب پر اپنا حق جتا لیا ہو۔
،تصویر کا کیپشن’وٹنگہیم یُو‘ نامی اس درخت کا شمار سکاٹ لینڈ کے تہذیبی اثاثوں میں ہوتا ہے۔ یہ درخت وٹنگہیم خاندان کی ذاتی جاگیر میں صدیوں سے کھڑا ہے۔
،تصویر کا کیپشن’باوباب‘ قسم کے درختوں کی پہچان ان کے مخصوص پُھولے ہوئے تنے ہوتے ہیں۔ یہ درخت مڈغاسکر، افریقہ اور آسٹریلیا کے خود رو درخت ہیں اور ان کے تنوں میں جمع ہونے والا پانی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ یہ برسوں کی خشک سالی میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمُون کہتی ہیں: ’میں اپنی تصاویر کے لیے درختوں کا انتخاب تین بنیادوں پر کرتی ہوں۔ درخت کی عمر، اس کا بہت بڑا حجم یا یہ کہ اس درخت کی تاریخ کتنی دلچسپ ہے۔ اسی طرح اپنی تصاویر کے لیے میں انسانی تاریخ کی کتابوں، بناتات کی تاریخ، اخبارات کے مضامین، سفرناموں اور اپنے دوستوں کی معلومات کا سہارا لیتی ہوں۔
،تصویر کا کیپشنمون کی اتاری ہوئی ان تصاویر کا انتخاب ہم نے ان کی کتاب ’قدیم درخت: وقت کی تصویر‘ سے کیا ہے۔ اگر آپ مون کے دیگر فن پارے دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ ان کی ویب سائٹ پر جا سکتے ہیں۔ پتہ ہے: www.bethmoon.com