فوٹو گرافروں نے پراسیس فوڈ سے بنائے ’قدرتی‘ مناظر۔
،تصویر کا کیپشنامریکی فوٹوگرافروں باربرا سیروج اور لنزی لاک مین نے پراسیس کھانے کی اشیا سے چھوٹے مناظر تشکیل دیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن لنزی لاک مین کا کہنا تھا کہ ’ان مناظر کو سمجھانے کے لیے ہم نے فوٹوگرافر کارلٹن واٹکنز کی کتاب کا حوالہ دیا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشن’ہم نے یہ مناظر لوگوں کی خوراک میں تبدیلی کو اجاگر کرنے کے لیے بنائے ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنفوٹوگرافروں کا کہنا ہے کہ ’واٹکنز نے مغربی امریکہ کو ایک لامتناہی امکانات والی زمین کے طور پر پیش کیا جس کی وجہ سے یہاں پہلے قومی پارکوں کی تعمیر ہوئی۔‘
،تصویر کا کیپشن’اگرچہ واٹکنز کی بہت سی تصاویر کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا مگر ان تصاویر سے مغربی امریکہ کی تشہیر بھی ہوئی۔‘
،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ واٹکنز کثرت سے فارلان جزائر کی تصاویر کھینچتے رہے ہیں اور ان کی ’شوگر لوف‘ جزائر کی تصویر سے متاثر ہو کر یہ منظر بنایا گیا ہے اور اسے ’کولا کے سمندر‘ کا نام دیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنباربرا سیروج اور لنزی لاک مین کی بڑے پتھر والی تصویر واٹکنز کی ’اگاسسز راک‘ اور ’یوس مائٹ‘ تصاویر کی ایک دلچسپ تعبیرِ نو ہے۔
،تصویر کا کیپشنفوٹوگرافروں کا کہنا ہے کہ ’یہ مناظر صنعتی خوراک کی پیداوار کو اجاگر کرتے ہیں جو فطرت اور ٹیکنالوجی کا ایک خطرناک چوراہا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشن’جیسے جیسے ہم کھانے کے ذرائع سے دور منتقل ہو رہے ہیں ہماری صحت اور ماحول پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں اور ہم ایک ان دیکھے علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنآپ باربرا اور لنزی کا مزید کام ان کی ویب سائٹ www.ciurelochmanphoto.com پر دیکھ سکتے ہیں۔