سکول دوبارہ کھل گئے

صوبہ بلوچستان کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں کی طرح پشاور میں سکول کھل گئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں کی طرح پشاور میں آج سکول دوبارہ سے کھل گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں کی طرح پشاور میں آج سکول دوبارہ سے کھل گئے ہیں۔
آئی ایس پی ار کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف آرمی پبلک سکول پشاور میں موجود ہیں جہاں وہ بچوں کا استقبال کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی ار کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف آرمی پبلک سکول پشاور میں موجود ہیں جہاں وہ بچوں کا استقبال کر رہے ہیں۔
جنرل راحیل نے کہا ہے کہ ’تمام بچے ہائی سپرٹس میں ہیں اور اس قوم کو شکست نہیں دی جاسکتی‘۔
،تصویر کا کیپشنجنرل راحیل نے کہا ہے کہ ’تمام بچے ہائی سپرٹس میں ہیں اور اس قوم کو شکست نہیں دی جاسکتی‘۔
پشاور میں سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔
،تصویر کا کیپشنپشاور میں سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔
اہم شہر میں عوام میں سکولوں کی سکیورٹی کے حوالے سے ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں اور بظاہر والدین سکول کھلنے سے چند گھنٹے پہلے تک اس مخمصے میں تھے کہ آیا بچوں کو سکول بھیجا جائے کہ نہیں۔
،تصویر کا کیپشناہم شہر میں عوام میں سکولوں کی سکیورٹی کے حوالے سے ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں اور بظاہر والدین سکول کھلنے سے چند گھنٹے پہلے تک اس مخمصے میں تھے کہ آیا بچوں کو سکول بھیجا جائے کہ نہیں۔
بعض والدین کے مطابق وہ پیر کو پہلے اپنے بچوں کے سکول میں جائیں گے اور اگر وہ وہاں سکیورٹی کے انتظامات سے مطمئن ہوئے تو پھر اگلے روز یعنی منگل کو اپنے بچوں کو سکول بھیجیں گے۔
،تصویر کا کیپشنبعض والدین کے مطابق وہ پیر کو پہلے اپنے بچوں کے سکول میں جائیں گے اور اگر وہ وہاں سکیورٹی کے انتظامات سے مطمئن ہوئے تو پھر اگلے روز یعنی منگل کو اپنے بچوں کو سکول بھیجیں گے۔
16 دسمبر کو طالبان کے حملے کا نشانہ بننے والے آرمی پبلک سکول کو دوبارہ کھولنے کے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن16 دسمبر کو طالبان کے حملے کا نشانہ بننے والے آرمی پبلک سکول کو دوبارہ کھولنے کے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
سکول کے اطراف میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور رات کے وقت سکول کی جانب جانے والے راستے وارسک روڑ کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنسکول کے اطراف میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور رات کے وقت سکول کی جانب جانے والے راستے وارسک روڑ کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
پشاور بورڈ کے ساتھ منسلک سکولوں کی تعداد ساڑھے بائیس سو کے قریب ہے اور ان میں سے جنھوں نے نئے سکیورٹی انتظامات مکمل کیے ہیں، جس میں اضافی سکیورٹی، خاردار تاریں، کیمرے وغیرہ شامل ہیں، ان کی تعداد 1400 ہے صرف وہ سکول کھلے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپشاور بورڈ کے ساتھ منسلک سکولوں کی تعداد ساڑھے بائیس سو کے قریب ہے اور ان میں سے جنھوں نے نئے سکیورٹی انتظامات مکمل کیے ہیں، جس میں اضافی سکیورٹی، خاردار تاریں، کیمرے وغیرہ شامل ہیں، ان کی تعداد 1400 ہے صرف وہ سکول کھلے ہیں۔