جریدے چارلی ایبڈو پر حملے اور تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک بڑی ریلی کا انعقاد
،تصویر کا کیپشنپیرس میں 17 افراد کی ہلاکت کے بعد اتوار کو منعقد کی جانے والی اس ریلی میں توقع ہے کہ دس لاکھ افراد شریک ہو رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجلوس میں شرکت کے لیے لوگ صبح سویرے ہی پیرس کی سڑکوں اور چوراہوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اس ریلی کی قیادت ہلاک ہونے والے افراد کے گھر والے اور عزیز کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیکجہتی کے اس جلوس میں دنیا بھر سے کئی رہنما شرکت کر رہے ہیں جن میں جرمن چانسلر آنگیلا میرکل بھی ہیں جنھوں نے پیرس پہنچنے کے بعد صدر اولاند سے تعزیت کی۔
،تصویر کا کیپشنونٹی مارچ میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن، آنگیلا میرکل ، ترکی کے وزیراعظم احمد دواؤ اوغلو، سپین کے صدر ماریانو راخوائے اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی شریک ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنریلی کے آغاز پر دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاسی رہنماؤں نے ریلی کے دیگر شرکا کی طرح ایک دوسرے سے کاندھے سے کاندھا ملا کر اظہار یکجہتی کیا۔
،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزیر اعظم کے علاوہ فلسطینی صدر محمود عباس بھی ریلی میں شرکت کے لیے پیرس پہنچے۔
،تصویر کا کیپشنجلوس کی حفاظت کے لیے 1200 پولیس اور 1350 فوجی اہلکار جلوس کے راستوں پر تعینات کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپیرس کی پولیس کی جانب سے میگزین ’شارلی ایبڈو‘ کے دفتر کے سامنے پھولوں کے دستے رکھے گئے۔ یہاں بدھ کو حملہ آوروں نے مدیر سمیت رسالے کے بارہ صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنبدھ کے حملے کے بعد سے دنیا بھر سے فرانس اور یہاں کے لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے پیغامات کا تانا بندھ گیا۔ اتوار کی ریلی سے پہلے ہی ’میں ہوں شارلی‘ کا نعرہ زباں زد عام ہو چکا تھا۔
،تصویر کا کیپشنریلی میں شامل لوگوں نے فرانس کے بڑے بڑے پرچم اٹھا رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں بڑی بڑی عمارتوں پر بھی ملک کا پرچم لہرایا جا رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپیرس کی اس بڑی ریلی کے علاوہ فرانس کے دیگر شہروں میں بھی میگزین کے ہلاک ہونے والے عملے کے ساتھ یکجہتی کے لیے جلوس نکالے جا رہے ہیں جن میں ہر عمر کے لوگ حصہ لے رہے ہیں۔