افغانستان کے پاکستان سے متصل سرحدی علاقوں میں افغان فورسرز کا طالبان کے خلاف آپریشن
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی سرحد سے متصل افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ میں افغان نیشنل آرمی کا طالبان کے خلاف آپریشن جاری ہے
،تصویر کا کیپشنافغانستان کی فوج نے پاکستانی سرحد کے قریب دنگم ضلعے میں کارروائی کا آغاز کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشناب تک افغان حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں 157 مسلح شدت پسند ہلاک اور 112 زحمی ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپولیس چیف عبدالحبیب سید خیل کے مطابق گذشتہ ایک ماہ سے جاری ان کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کے سات اہلکار ہلاک اور چھ زحمی ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغان اور بین لاقوامی افواج کے حکام کو پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف تعاون پر مبنی کارروائیوں میں ہر سطح پر اپنی حمایت کی یقین دہانی کروائی تھی۔
،تصویر کا کیپشنافغان آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف اور ایساف کمانڈر نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف جاری بلاامتیاز کیے جانے والے آپریشن ضرب عضب سے شدت پسندوں کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبے کنڑ میں جاری فوجی کارروائی میں طالبان کمانڈر احمد خان سمیت متعدد طالبان کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
،تصویر کا کیپشنافغانستان کا صوبہ کنڑ پاکستان کے سرحدی علاقوں سے قریب ہے جہاں مبینہ طور پر پاکستان طالبان کے کمانڈر ملا فضل اللہ مقیم ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکنڑ میں طالبان کی جانب سے اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں جن کا الزام افغان حکام پاکستانی طالبان پر عائد کرتے ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد افغانستان اور پاکستان کے حکام نے طالبان کے خلاف مربوط کارروائیاں کرنے پر اتفاق کیا تھا۔