پشاور میں طالبان کے حملے سے متاثر ہونے والے سکول میں تباہی کے مناظر۔
،تصویر کا کیپشنپشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے دوسرے دن حکام نے میڈیا کو سکول میں رسائی دی۔
،تصویر کا کیپشنبدھ کو سکول کے اندر سکیورٹی فورسز کے اہلکار موجود تھے اور وہاں بارودی مواد کی تلاش جاری تھی۔
،تصویر کا کیپشنسکول کے شدت پسندوں کے حملے سے متاثرہ بلاکس کے بعض حصوں میں دھماکہ خیز مواد کے استعمال کی وجہ سے دیواروں کا رنگ سیاہ پڑ گیا جبکہ جگہ جگہ کتابیں بکھری ہوئی نظر آئیں۔
،تصویر کا کیپشنسکول کے کل چار بلاک ہیں جن میں ایک آڈیٹوریم، ایک انتظامی بلاک، جبکہ دو تدریسی بلاک ہیں۔حکام کے مطابق شدت پسند سیدھے آڈیٹوریم میں آئے جہاں بچوں کا اجتماع تھا اور سب سے زیادہ اموات یہاں ہوئیں۔
،تصویر کا کیپشنسکول کی دیواروں پر جگہ جگہ گولیوں کے نشانات پائے جاتے ہیں۔آپریشن میں ایک دہشت گرد کو آڈیٹوریم کے خارجی راستے پر مارا گیا جبکہ باقی چھ دہشت گردوں کو سکول کے انتظامی بلاک میں ہلاک کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق آپریشن کے اختتام کے وقت انتظامی بلاک سے ایس ایس جی نے کل 23 بچوں کو بازیاب کروایا۔ بہت سے بچے روشندانوں میں چڑھ کر چھپے ہوئے تھے، باتھ روموں میں تھے، فرنیچر کے نیچے چھپے ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشناس سے قبل منگل کو رات گئے پاکستانی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس حملے میں 132 بچوں سمیت کل 141 ہلاکتیں ہوئیں اور ہلاک ہونے والوں میں سات خودکش حملہ آور بھی شامل تھے جو سبھی مارے گئے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے بدھ کو پشاور میں پارلیمانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پسندی کے خلاف کارروائیوں میں کسی بھی سطح پر اچھے اور برے طالبان کی کوئی تمیز روا نہیں رکھی جائے گی اور جب تک ایک بھی دہشت گرد باقی ہے یہ جنگ جاری رہے گی۔
،تصویر کا کیپشننواز شریف نے یہ اجلاس منگل کو پشاور میں سکول پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد طلب کیا تھا جس میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ سمیت ملک کی تقریباً تمام اعلیٰ سیاسی قیادت نے شرکت کی۔