اوسلو میں ملالہ یوسفزئی اور کیلاش ستیارتھی کو امن کا نوبیل انعام دیے جانے کی تقریب۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی طالبہ اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم کارکن ملالہ یوسفزئی نے بھارتی سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی کو امن کا نوبیل انعام دیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنملالہ اور کیلاش کو رواں برس اکتوبر میں مشترکہ طور پر اس انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشن17 سالہ ملالہ امن کا نوبیل انعام کرنے والی کم عمر ترین فرد ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارت میں بچوں کی مزدوری کے خلاف مہم چلانے والے کیلاش ستیارتھی نے اپنے ایوارڈ کو بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے نام کیا۔
،تصویر کا کیپشنایوارڈ وصول کرنے کے بعد اپنے خطاب میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ وہ اپنے والد کی شکرگزار ہیں کہ انھوں نے ان کے ’پر نہیں کُترے اور پرواز کی آزادی دی۔‘
،تصویر کا کیپشنانھوں نے کہا کہ وہ دنیا کے ہر کونے میں امن، خواتین کو برابر کے حقوق دیے جانے اور ہر بچے کو اس کی صنف سے قطع نظر تعلیم دیے جانے کی خواہاں ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتقریب میں ملالہ کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے جو انھیں ایوارڈ ملنے پر جذباتی اور آبدیدہ نظر آئے۔
،تصویر کا کیپشنملالہ اور کیلاش جب تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنملالہ کی جانب سے اس تقریب میں مدعو کی جانے والی پاکستانی، نائجیرین اور شامی لڑکیاں شرکا کی توجہ کا مرکز رہیں۔
،تصویر کا کیپشننوبیل انعام کی تقریب میں ناروے کے بادشاہ اور ملکہ بھی شریک ہوئیں۔