وہ محلات جو سنسان پڑے ہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع دارالامن محل اپنے شاندار ماضی کی داستان بیان کرتا ہے۔

دارالامن محل
،تصویر کا کیپشنکابل کے ایک سرے پر دارالامن محل ہوا کرتا تھا جو افغانستان کی انتہائی شاندار عمارت کہلا،ت جاتی تھی۔ اپنے شاندار ماضی کی داستان بیان کرتے ہیں اور پتھر کا کلیجہ لیے حیران کھڑے ہیں۔ نازش افروز نے اس کی تصاویر لی ہیں اور اسے زخمی محل کے نام سے تعبیر کیا ہے۔
دارالامن محل
،تصویر کا کیپشنشاہ امان اللہ جنھوں نے سنہ 1918 میں برطانوی فوج کو شکست دے کر اپنے ملک کے لیے مکمل آزادی حاصل کی تھی نے 1920 کی دہائی کے اوائل میں یورپی نو کلاسیکی انداز کی عمارت تعمیر کروائی تھی۔ اس عمارت کا سامنے والا پرشکوہ حصہ ابھی تک تقریباً سلامت ہے۔
دارالامن محل
،تصویر کا کیپشنسنہ 1969 میں اس کی بحالی سے قبل اس محل میں آگ لگ گئی تھی جبکہ سنہ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں یہ وزارت دفاع کا صدر دفتر ہوا کرتا تھا۔
دارالامن محل
،تصویر کا کیپشنسنہ 1992 میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں خانہ جنگی شروع ہوگئي تو اسے مجاہدین نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس کی سامنے کی دیواروں پر گولیوں کے نشانات نظر آتے ہیں اور ’مرگ بر کفر جہانی‘ لکھا نظر آتا ہے۔
دارالامن محل
،تصویر کا کیپشنمحل کے ستونوں کو ہرچند کہ شدید گولہ باری اور زبردست جنگ کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے تاہم یہ بلند سر کھڑے ہیں۔
دارالامن محل
،تصویر کا کیپشندرالامن کی سیڑھیاں سنگ مرمر سے بنائی گئيں تھیں۔ خانہ جنگی کے بعد یہاں آنے والے بہت سے لوگوں نے دیوراوں پر اپنے نام کندہ کر دیے ہیں۔
دارالامن محل
،تصویر کا کیپشنجنگ کے نشات درودیوار پر منقش ہیں۔ شاید اس بات کا علم کبھی نہ ہو پائے کہ یہ کس کی پنسل کا نتیجہ ہیں لیکن اتنا تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ انھوں نے جنگ دیکھی ہے جہاں ٹینک اور ہیلی کاپٹر ہوتے ہیں۔
دارالامن محل
،تصویر کا کیپشنمحل کے نیم دائرہ نما مرکزی ہال کی چھت تو گولہ باری کے باعث تباہ ہوگئی۔
دارالامن محل
،تصویر کا کیپشناس دارالامن محل سے دور کابل کے کنارے ایک جہان تازہ آباد ہوتا نظر آ رہا ہے۔