،تصویر کا کیپشنآسٹریلوی ٹیم کو میچ جیتنے کے لیے 438 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن چوتھے دن کھیل ختم ہونے پر وہ صرف 59 رنز پر چار وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔
،تصویر کا کیپشنآخری دن اسے جیت کے لیے مزید 379 رنز بنانے ہیں لیکن جس طرح پاکستانی سپنرز چھائے ہوئے ہیں لگ رہا ہے یہ طوفان آسٹریلوی بیٹنگ کو اڑا کر لے جائے گا۔
،تصویر کا کیپشنپہلی اننگز میں سنچری بنانے والے ڈیوڈ وارنر انتیس رنز بناکر سرفراز احمد کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہوئے۔ ڈولن بغیر کوئی رن بنائے ایل بی ڈبلیو ہوئے۔
،تصویر کا کیپشناننگز کی شہ سرخی یونس خان اور احمد شہزاد کی شاندار سنچریوں سے بنی جن میں یونس خان کی سنچری اس لحاظ سے ہمیشہ یاد رہے گی کہ وہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 26 سنچریاں بنانے والے بیٹسمین بن گئے۔
،تصویر کا کیپشنان سے قبل حنیف محمد، جاوید میانداد، وجاہت اللہ واسطی، یاسرحمید، انضمام الحق اور محمد یوسف ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں سکور کر چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیونس خان چالیس سال کے طویل عرصے میں آسٹریلیا کے خلاف کسی ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سنچری بنانے والے پہلے بیٹسمین ہیں۔
،تصویر کا کیپشنذوالفقار بابر نے ایک ہی اوور میں ڈیوڈ وارنر اور ایلکس ڈولن کو پویلین کی راہ دکھادی۔
،تصویر کا کیپشنپہلی اننگز میں سنچری بنانے والے ڈیوڈ وارنر انتیس رنز بناکر سرفراز احمد کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہوئے۔ ڈولن بغیر کوئی رن بنائے ایل بی ڈبلیو ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے لیے وہ وقت بہت کڑا تھا جب یاسر شاہ نے بھی اپنے ایک اوور میں دو وکٹیں حاصل کرڈالیں۔
،تصویر کا کیپشناس طرح آسٹریلوی ٹیم نے صرف پانچ رنز کے اضافے پر چار وکٹیں گنوادیں۔
،تصویر کا کیپشنجس طرح پاکستانی سپنرز چھائے ہوئے ہیں لگ رہا ہے یہ طوفان آسٹریلوی بیٹنگ کو اڑا کر لے جائے گا۔