دہلی پبلک ٹرانسپورٹ میں زندگی اوور لوڈڈ

کہا جاتا ہے کہ ہر شہر اپنے پبلک ٹرانسپورٹ کے پہیوں پر سوار ہے لیکن دہلی میں یہ اوور لوڈڈ نظر آتا ہے۔

بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر بڑی تعداد میں لوگوں کے روزانہ کے معمول کا حصہ ہیں۔ یہ تصویر کشمیری گیٹ بس اڈے کی ہے۔(تمام تصاویر آرزو عام کی ہیں)
،تصویر کا کیپشنبڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر بڑی تعداد میں لوگوں کے روزانہ کے معمول کا حصہ ہیں۔ یہ تصویر کشمیری گیٹ بس اڈے کی ہے۔(تمام تصاویر آرزو عام کی ہیں)
پبلک ٹرانسپورٹ میں صرف بسیں اور میٹرو ہی شامل نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق دوسرے متبادل بھی ہیں۔ مشرقی دہلی کے کھجوری چوک کی اس تصویر میں ایک ٹرک کو سامان کے ساتھ عوام کو سفر کرتے بھی جا سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپبلک ٹرانسپورٹ میں صرف بسیں اور میٹرو ہی شامل نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق دوسرے متبادل بھی ہیں۔ مشرقی دہلی کے کھجوری چوک کی اس تصویر میں ایک ٹرک کو سامان کے ساتھ عوام کو سفر کرتے بھی جا سکتا ہے۔
دہلی کے مرکز تک پہنچنے کے لیے ٹرین بھی ایک متبادل ہے۔ دہلی کے باہر کے لوگ روزانہ ایک دو گھنٹے کے سفر کے بعد یہاں آتے ہیں۔ دادری ریلوے سٹیشن سے روزانہ اس طرح رش والی ریل گاڑیاں گذرتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشندہلی کے مرکز تک پہنچنے کے لیے ٹرین بھی ایک متبادل ہے۔ دہلی کے باہر کے لوگ روزانہ ایک دو گھنٹے کے سفر کے بعد یہاں آتے ہیں۔ دادری ریلوے سٹیشن سے روزانہ اس طرح رش والی ریل گاڑیاں گذرتی ہیں۔
دہلی کے بعض علاقوں میں چھوٹی یا تین پہیوں والی گاڑیاں وکرم یا پھٹ پھٹ سیوا موجود ہیں۔ قانونی طور پر اس طرح بھری ہوئی گاڑیوں پر پابندی ہے تاہم درگاپور چوک پر ایک وکرم آٹو کا منظر آپ کے سامنے ہے۔
،تصویر کا کیپشندہلی کے بعض علاقوں میں چھوٹی یا تین پہیوں والی گاڑیاں وکرم یا پھٹ پھٹ سیوا موجود ہیں۔ قانونی طور پر اس طرح بھری ہوئی گاڑیوں پر پابندی ہے تاہم درگاپور چوک پر ایک وکرم آٹو کا منظر آپ کے سامنے ہے۔
کچھا کھچ بھری بسوں سے واضح ہوتا ہے کہ مسافروں کی سہولتوں کے مطابق بپلک ٹرانسپورٹ کے ذرائع کم ہیں۔ دہلی کے عثمان پور پشتے سے گذرنے والی تقریباً تمام بسیں اسی طرح رش سے بھری نظر آتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکچھا کھچ بھری بسوں سے واضح ہوتا ہے کہ مسافروں کی سہولتوں کے مطابق بپلک ٹرانسپورٹ کے ذرائع کم ہیں۔ دہلی کے عثمان پور پشتے سے گذرنے والی تقریباً تمام بسیں اسی طرح رش سے بھری نظر آتی ہیں۔
پبلک ٹرانسپورٹ کا حصہ آٹو رکشا بھی ہیں اور یہ دہلی میں کئی وجوہات کے سبب سرخیوں میں رہتے ہیں۔ ان میں صرف تین لوگوں کے بیٹھنے کی اجازت ہے لیکن بعض اوقات اس میں زیادہ سواریاں ہوتی ہیں۔ ہرش وہار ٹرمینل کا یہ منظر۔
،تصویر کا کیپشنپبلک ٹرانسپورٹ کا حصہ آٹو رکشا بھی ہیں اور یہ دہلی میں کئی وجوہات کے سبب سرخیوں میں رہتے ہیں۔ ان میں صرف تین لوگوں کے بیٹھنے کی اجازت ہے لیکن بعض اوقات اس میں زیادہ سواریاں ہوتی ہیں۔ ہرش وہار ٹرمینل کا یہ منظر۔
ایک زمانہ تھا جب دہلی میں سائکل سواروں کی تعداد زیادہ ہوا کرتی تھی۔ سڑکیں کشادہ ہوئیں، ٹریفک کی رفتار بڑھی اور سائکلیں کم ہوتی گئیں۔ یہ شاستری پارک کی تصویر ہے۔
،تصویر کا کیپشنایک زمانہ تھا جب دہلی میں سائکل سواروں کی تعداد زیادہ ہوا کرتی تھی۔ سڑکیں کشادہ ہوئیں، ٹریفک کی رفتار بڑھی اور سائکلیں کم ہوتی گئیں۔ یہ شاستری پارک کی تصویر ہے۔
گنجائش سے زیادہ سواری اٹھانے میں سائیکل رکشے بھی کم نہیں۔ ویلکم میٹرو کے نزدیک کی اس تصویر میں رکشہ الٹی سمت میں جا رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنگنجائش سے زیادہ سواری اٹھانے میں سائیکل رکشے بھی کم نہیں۔ ویلکم میٹرو کے نزدیک کی اس تصویر میں رکشہ الٹی سمت میں جا رہا ہے۔
متبادل تو کئی ہیں لیکن کیا دہلی کی تیز دوڑتی سڑکوں پر ان سواریوں کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ہری نظر کی ریڈ لائٹ سے گذرنے والی یہ ریڑی سکول کے بچوں کو لیے جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنمتبادل تو کئی ہیں لیکن کیا دہلی کی تیز دوڑتی سڑکوں پر ان سواریوں کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ہری نظر کی ریڈ لائٹ سے گذرنے والی یہ ریڑی سکول کے بچوں کو لیے جا رہی ہے۔
آبادی کے تناسب میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونا ایک مسئلہ ضرور ہے لیکن غریبوں کے لیے کچھ اور بھی متبادل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآبادی کے تناسب میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونا ایک مسئلہ ضرور ہے لیکن غریبوں کے لیے کچھ اور بھی متبادل ہیں۔
خواتین اب سکوٹی چلاتی نظر آتی ہیں۔ یہ تصویر دھولا کنواں پر لی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنخواتین اب سکوٹی چلاتی نظر آتی ہیں۔ یہ تصویر دھولا کنواں پر لی گئی ہے۔
یہ تصویر جمنا نگر کے مات نگر فلائی اوور کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ تصویر جمنا نگر کے مات نگر فلائی اوور کی ہے۔
بس کے مسافروں میں اچھی خاصی تعداد سکول کے بچوں کی بھی ہوتی ہے اور ان کا سفر خطرناک ہوتا ہے۔ تغلق آباد کے میٹرو سٹیشن کے پاس کا یہ منظر دہلی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کے بارے میں بہت کچھ کہتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبس کے مسافروں میں اچھی خاصی تعداد سکول کے بچوں کی بھی ہوتی ہے اور ان کا سفر خطرناک ہوتا ہے۔ تغلق آباد کے میٹرو سٹیشن کے پاس کا یہ منظر دہلی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کے بارے میں بہت کچھ کہتا ہے۔