شاہراہ دستور پر 20 اگست سے موجود ’انقلابیوں‘ کی واپسی
،تصویر کا کیپشنمنگل کی شام پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی جانب سے اسلام آباد میں دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے بعد بدھ کی صبح شاہراہ دستور پر کارکن واپسی کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دیے:( تصاویر: ہارون رشید)
،تصویر کا کیپشنطاہر القادری نے موجودہ حکومت کے خاتمے، نظام کی تبدیلی اور ماڈل ٹاؤن کے سانحے میں ہلاک ہونے والے افراد کو انصاف دلانے کے مطالبات کے تحت 14 اگست کو لاہور سے انقلاب مارچ کا آغاز کیا تھا جو اسلام آباد پہنچ کر 20 اگست سے پارلیمان کے سامنے شاہراہ دستور پر احتجاجی دھرنے میں تبدیل ہوگیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کے سربراہ کی کال پر دھرنے کے شرکا نے 31 اگست وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی اور اس کے نتیجے میں تقریباً دو دن تک پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم جاری رہا جس میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ان جھڑپوں میں زخمی ہونے والوں میں پولیس کے سینیئر افسران بھی شامل تھے جبکہ عوامی تحریک کے کارکنوں کے قابو میں آنے والے پولیس اہلکاروں سے ہیلمٹ، گیس ماسک، ڈھال قبضے میں لیں اور واپسی پر یہ سامان کارکنوں اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے نظر آئے۔ ممکنہ طور پر انقلاب مارچ کو دوبارہ بھی پولیس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ابھی تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنانقلاب مارچ جب شاہراہ دستور پر منتقل ہوا تو اس وقت شرکا کے پاس مناسب انتظامات نہیں تھے تاہم بعد میں یہ سڑک کسی خیمہ بستی کا منظر پیش کرنے لگی جہاں دن میں لوگ آرام کرتے اور رات کو دھرنے میں شامل ہو کر اپنے قائد کی تقریر سنتے۔
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کے سربراہ نے دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ اپنے کارکنوں کو صفائی کی خاص تلقین کی تھی لیکن شاید تھکے ہارے کارکنوں میں صفائی کی ہمت نہیں تھی۔
،تصویر کا کیپشندھرنے کے باعث کھانے پینے کے سٹال سج گئے اور کئی لوگوں کو روزگار کا موقع ملا۔ ان سٹالوں کے نام بھی حکومت مخالف نعروں یا انقلاب پر رکھے گئے۔
،تصویر کا کیپشنبدھ کی صبح لوگوں کی خاصی بڑی تعداد جا چکی تھی تاہم کچھ ابھی تیاریوں میں مصروف تھے جس کی وجہ سے چائے اور دیگر لوازمات کے سٹالوں پر لوگ نظر آئے۔ شاید یہ لوگ تمام کارکنوں کی واپسی کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل سوچیں یا چند گز کے فاصلے پر عمران خان کے آزادی مارچ میں منتقل ہو جائیں کیونکہ ابھی تک عمران خان نے واپسی کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا۔
،تصویر کا کیپشنانقلاب مارچ کی وجہ سے ’گو نواز گو‘ کا نعرہ مقبول ہوا اور اس نعرے کے سٹیکرز اور وال چاکنگ دھرنے کے مقام پر جگہ جگہ نظر آتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنشاہرہ دستور پر ڈی چوک کے مقام پر تحریک انصاف کا آزادی دھرنا اب بھی جاری ہے اور ہو سکتا ہے کہ انقلاب دھرنے کے بعد آزادی دھرنے کو زیادھ کھلی جگہ میسر آئے، لیکن اس کے لیے پارٹی کارکنوں کا یہاں مستقل قیام کرنا بھی ضروری ہو گا کیونکہ عوامی تحریک کے تقریباً نصف سے زائد کارکن ہر وقت دھرنے میں موجود رہتے تھے جبکہ آزادی دھرنے کے شرکا کی آمد شام کے وقت ہی شروع ہوتی ہے اور ان کی اکثریت رات کو واپس چلی جاتی ہے۔