،تصویر کا کیپشنلاہور میں مینار پاکستان کے سبزہ زار پر تحریک کے انصاف کا جلسے کو ان کے سیاسی مخالفین بھی بڑا جلسہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ جلسہ ایک طرف تو عمران خان اور تحریک انصاف سے لوگوں کی وابستگی کا مظہر تھا تو دوسری طرف اس میں حکمرانوں سے لوگوں کی بے زاری بھی ظاہر ہو رہی تھی۔
،تصویر کا کیپشنلاہور گذشتہ کئی دہائیوں سے مسلم لیگ نواز کا گڑھ رہا ہے لیکن اس جلسے کے بعد مبصرین نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ اب صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف کے اس جلسے میں بھی عورتوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور ان میں لوگوں کا جوش و خروش اپنے عروج پر تھا۔
،تصویر کا کیپشنشرکا کے ہاتھوں میں ایک طرف تو تحریک انصاف کے جھنڈے تھے تو دوسرے ہاتھ میں انھوں نے ’گو نواز گو‘ کے پوسٹر اور بینر اٹھا رکھے تھے۔
،تصویر کا کیپشنگو نواز گو کا نعرہ بھی لوگوں میں بہت مقبول رہا اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے سٹیج سے بھی یہی نعرہ لگوایا جاتا رہا۔
،تصویر کا کیپشناس جلسے میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے جن میں غریب، متوسط اور متمول طبقے کے لوگ بھی تھے۔
،تصویر کا کیپشنجلسہ شام کو شروع ہوا لیکن جلسہ گاہ میں لوگ گرمی کے باوجود صبح ہی سے آ کر بیٹھنا شروع ہو گئے تھے۔