پانی کا ریلا تباہی اور بربادی کی داستان پیچھے چھوڑتا ہوا صوبہ سندھ میں داخل ہونے کو ہے
،تصویر کا کیپشنپانی کا ریلا جنوب کی جانب سفر کرتا ہوا نئے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور ان علاقوں میں بہت سے لوگ پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنہیلی کاپٹروں کے علاوہ کشتیوں کے ذریعے بھی پانی میں گھرے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
،تصویر کا کیپشنجہاں سے لوگوں کو نکالا نہیں جا سکا وہاں لوگوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعےخوراک مہیا کی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپنجاب کے میدانی علاقوں میں فصلیں اور باغات پانی میں ڈوب گئے ہیں اور اب تک سیلاب سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکا۔
،تصویر کا کیپشنگاؤں کے گاؤں پانی میں ڈوب گئے ہیں اور کئی جگہوں پر لوگ حکومت اور انتظامیہ پر مختلف قسم کے الزامات لگا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنملتان کے بعد شجاع آباد کا علاقہ بھی مکمل طور پر غرقاب ہو گیا اور اس علاقے میں ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک پہنچانے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے لیکن پھر بہت سے علاقوں میں لوگ امداد نہ ملنے کی شکایت کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپانی میں گھرے لوگوں کے لیے خوراک کے پیکٹ ہیلی کاپٹر کے ذریعے گرائے جاتے ہیں۔ اس کام میں پاکستان فوج کے ہیلی کاپٹروں کے علاوہ کئی نجی امدادی ادارے بھی شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس علاقے میں کئی شاہراہیں بھی زیر آب آ گئی ہیں جس سے متاثرین تک پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ شجاع آباد کے قریب شیر شاہ کا ٹول پلازہ پانی میں ڈوبا ہوا۔
،تصویر کا کیپشنغریب اور آفت زدہ لوگوں میں امداد کی تقسیم کا کام ہمیشہ ہی مشکل اور دشوار رہا ہے اور خاص طور پر جہاں متاثرین زیادہ اور امداد کم ہو۔
،تصویر کا کیپشنسیلاب سے کئی علاقوں میں سڑکیں بہہ گئی ہیں۔ ایسی ہی ایک شاہراہ جسے پانی کا ریلا بہا لے گیا اور لوگ امداد پہنچنے کے منتظر ہیں۔