سیلابی ریلا صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں سے جنوبی علاقوں کی جانب
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ڈھائی سو سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشندریائے چناب میں آنے والا بڑا سیلابی ریلا اس وقت صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں سے گزرتے ہوئے جنوبی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمحکمۂ موسمیات کے مطابق ممکنہ سیلاب کی وجہ سے ملتان اور مظفر گڑھ کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے اور دریا کے قریبی علاقے خالی کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجھنگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تریموں سے اس وقت پانچ لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی گزر رہا ہے جس میں مزید اضافہ متوقع ہے اور اس کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنتریموں بیراج پر پانی گزرنے کی انتہائی سطح ساڑھے چھ لاکھ کیوسک ہے۔ جھنگ کی تحصیل اٹھارہ ہزاری کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تریموں بیراج کو محفوظ رکھنے کے لیے دریائے چناب پر واقع بند میں شگاف ڈال دیا گیا ہے جس کے بعد پانی اٹھارہ ہزاری اور احمد پور سیال کے قصبات اور ملحقہ دیہات میں داخل ہو رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پانی کے دباؤ کی وجہ سے دریا کے جھنگ شہر کی طرف والے کنارے میں بھی دو جگہ شگاف پڑ گئے ہیں اور جھنگ کو بھکر سے ملانے والی شاہراہ پر ڈھائی فٹ تک پانی کھڑا ہوگیا ہے۔
،تصویر کا کیپشننامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ جھنگ شہر میں خوف کی فضا ہے اور شہریوں نے رات جاگ کر گزاری ہے۔ شہر سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی بھی کی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک سیلاب سے ضلع جھنگ کا 35 فیصد حصہ زیرِ آب آ چکا ہے اور 350 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔